ایران، اسرائیل اور امریکہ کی جنگ چھٹے روز میں، خطے بھر میں حملے جاری، ہلاکتیں 1230 سے تجاوز

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ چھٹے روز میں داخل ہو چکی ہے، اور خطے کے مختلف ممالک میں حملے اور جوابی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ تہران، دوحہ اور بیروت سے سامنے آنے والی تصاویر میں تباہ شدہ عمارتیں، ملبہ اور آسمان کی جانب اٹھتے گہرے دھوئیں کے بادل موجودہ لڑائی کی شدت کو واضح کر رہے ہیں۔

جمعرات کے روز ایران کے دارالحکومت تہران کے مختلف علاقوں میں لی گئی تصاویر میں امریکی اور اسرائیلی حملوں سے تباہ ہونے والی عمارتیں، منہدم ڈھانچے اور بمباری کے بعد اٹھنے والا دھواں صاف دکھائی دیتا ہے، جس سے حملوں کی شدت اور نقصان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک خطے میں مجموعی طور پر 1230 ایرانی شہری امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید ہو چکے ہیں، جبکہ ایران کے جوابی حملوں میں 11 افراد ہلاک ہوئے جن میں 6 امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔

دیگر ممالک میں بھی ایرانی حملوں کے اثرات سامنے آئے ہیں۔

لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 77 ، متحدہ عرب امارات میں ایرانی حملوں میں 3 افراد، بحرین میں میزائل مار گرائے جانے کے بعد صنعتی علاقے میں آگ بھڑکنے سے 1 شخص ، کویت میں ایرانی حملوں میں 2 کویتی فوجیوں سمیت 4 افراد جبکہ عمان کے بندرگاہ پر ٹینکر پر حملے میں 1 شخص ہلاک ہوگیا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکہ اور اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنے حملوں میں شہری آبادی کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہے ہیں۔

ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق:”یہ حملے عالمی منڈیوں کو متاثر کر رہے ہیں، توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، کرنسیاں غیر مستحکم ہو رہی ہیں اور دنیا بھر کے عام لوگ معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ لیکن ایرانیوں کے لیے اس کی قیمت کہیں زیادہ ہے کیونکہ ہمارے شہریوں کو بے رحمی سے قتل کیا جا رہا ہے۔”

ایران کا کہنا ہے کہ حملہ آور ایسے مقامات کو نشانہ بنا رہے ہیں جہاں زیادہ سے زیادہ جانی نقصان ہو سکے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کا مقصد ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت اور جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔

امریکہ کا مؤقف ہے کہ ایران کے عسکری پروگرام خطے کے لیے خطرہ ہیں اور ان کا خاتمہ ضروری ہے۔

جنگ کے چھٹے روز بھی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، اور خطے میں صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافہ، مشرقِ وسطیٰ میں تجارتی راستوں کو خطرات، خلیجی ممالک میں سیکیورٹی الرٹس اور انسانی جانوں کا بڑھتا نقصان کے صورتحال کے پیشِ نظر عالمی برادری نے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی اپیل کی ہے، تاہم تاحال کسی پیش رفت کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

Share This Article