ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے خطے میں پہلے سے موجود نسلی اور سیاسی تنازعات کو مزید بھڑکا دیا ہے۔
ایران کے زیر قبضہ بلو چستان میں بلوچ مزاحمتی گروہ، جو دو دہائیوں سے آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں، حالیہ کشیدگی کے دوران زیادہ فعال دکھائی دے رہے ہیں۔
اگرچہ کرد ملیشیاؤں کی طرح کسی منظم بڑے پیمانے کی شمولیت کی تصدیق نہیں ہوئی، لیکن سرحدی علاقوں میں حملوں اور جھڑپوں میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔
ایران نے ان واقعات کا الزام بیرونی حمایت یافتہ گروہوں پر عائد کرتے ہوئے سخت کارروائیاں کی ہیں، جن کے نتیجے میں عام شہری بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کے زیرِ قبضہ بلوچستان میں بھی آزادی کی تحریک اور ریاستی کارروائیوں کے باعث انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے، جہاں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور معاشی بدحالی کی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران اور پاکستان دونوں میں بلوچ علاقوں کی بگڑتی ہوئی صورتحال خطے میں ایک نئے عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی ایک بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔