نیپال الیکشن 2026: عوامی دلچسپی عروج پر، ٹرن آؤٹ میں نمایاں اضافہ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

ہمالیائی ملک نیپال بھر میں عام انتخابات جاری ہیں۔ دوپہر تک قومی سطح پر ٹرن آؤٹ 18–24٪ رہا، جبکہ دارلحکومت کٹھمنڈو ویلی میں 36٪ ووٹرز نے ووٹ ڈال دیا۔

گزشتہ سال کے پرتشدد مظاہروں کے بعد سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ عبوری وزیراعظم سشیلہ کرکی نے صبح ووٹ ڈالا، جس سے انتخابی عمل کی شفافیت اور اعتماد کو تقویت ملی۔

ووٹنگ شام تک جاری رہے گی، اور ابتدائی رجحانات میڈیا میں آئیں گے، مگر سرکاری نتائج صرف الیکشن کمیشن کے اعلان کے بعد ہی معتبر ہوں گے۔

انتخابی تاریخ اور بنیادی تفصیلات:

تاریخ: 5 مارچ 2026
کل نشستیں: 275 (165 براہِ راست، 110 متناسب نمائندگی)
رجسٹرڈ ووٹرز: تقریباً 19 ملین

یہ پہلا انتخاب ہے جو 2025 کے نوجوانوں کے احتجاج کے بعد ہو رہا ہے۔ ایوانِ نمائندگان کو قبل از وقت تحلیل کیا گیا تھا، جس کے بعد آئین کے مطابق چھ ماہ کے اندر انتخابات ضروری تھے۔

بڑی سیاسی جماعتیں اور ان کی موجودہ پوزیشن:

نیپالی کانگریس (NC)
قیادت: گگن کمار تھاپا

گزشتہ انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں۔ نوجوان ووٹرز میں مقبولیت برقرار، مگر Gen Z کے ابھار نے مقابلہ سخت کر دیا ہے۔

CPN-UML (کمیونسٹ پارٹی آف نیپال – UML)
قیادت: کے پی شرما اولی

دیہی علاقوں میں اثر برقرارہے ۔تاہم نوجوانوں کے احتجاج نے اس کی ساکھ کو متاثر کیاہے۔

نیشنل کمیونسٹ پارٹی (NCP)
قیادت: پشپا کمل دہال (پرچنڈا)

مخصوص علاقوں میں اثر، مگر نوجوان ووٹرز میں محدود مقبولیت ہے۔اس جماعت نے مسلح جدوجہد سے پارلیمنٹ میں قدم جمائے اور برعنوانی کے باعث عوامی اعتماد کھوچکے ہیں۔

راستریہ سواتنتر پارٹی (RSP)
قیادت: رابی لامیچھانے

نوجوانوں میں تیزی سے مقبول، شہری علاقوں میں مضبوط حمایت ہے۔ کٹھمنڈو کے میئربالین شاہ جیسے نئے چہرے اس جماعت کو "نئی سیاست” کی علامت بنا رہے ہیں۔

راستریہ پرجا تنتر پارٹی (RPP)
قیادت: راجندر لنگدن

قدامت پسند ووٹرز میں مقبول، نوجوانوں میں محدود پذیرائی حاصل ہے۔

PSP-Nepal، PSP اور Janamat پارٹی
بھارت سے متحصل علاقوں جسے مدھیشی علاقے کہا جاتا ہے میں اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ علاقائی شناختی سیاست کے باعث نوجوان ووٹرز کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ عوامی مقبولیت اور بدلتا ہوا سیاسی ماحول: 2025 کے Gen Z احتجاج نے نوجوانوں میں سیاسی شعور کو نئی سطح پر پہنچا دیا۔ اس بار تقریباً 800,000 نئے ووٹرز پہلی بار ووٹ ڈالیں گے۔

نئی جماعتوں کا ابھار:

RSP اور دیگر نئی جماعتیں نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔ شہری علاقوں میں نوجوان ووٹرز روایتی جماعتوں سے ہٹ کر متبادل قیادت کی تلاش میں ہیں۔

روایتی جماعتوں کا چیلنج:

NC اور UML نوجوان ووٹرز کو اپنی طرف کھینچنے کے لیے نئی حکمت عملی اپنا رہی ہیں۔ Gen Z کی سیاسی بیداری نے ان جماعتوں کے لیے مقابلہ سخت کر دیا ہے۔

عوامی دلچسپی اور متوقع ٹرن آؤٹ:

احتجاجات کے بعد عوام میں سیاسی بیداری بڑھی ہے۔ انتخابی مہمات میں نوجوان امیدواروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ نوجوان ووٹرز کی بڑھتی ہوئی شمولیت کے باعث اس بار ٹرن آؤٹ ماضی کے مقابلے میں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ عوام میں تبدیلی کی خواہش نے انتخابی ماحول کو مزید متحرک کر دیا ہے۔

نیپال کے عام انتخابات 2026 ایک نسلی تبدیلی (Generational Shift) کی علامت ہیں۔ نوجوان ووٹرز اور امیدواروں کی بڑھتی ہوئی شمولیت نے انتخابی ماحول کو پہلے سے زیادہ متحرک بنا دیا ہے۔ نئی جماعتوں کا ابھار، روایتی جماعتوں کا چیلنج اور عوام میں بڑھتی ہوئی سیاسی بیداری اس الیکشن کو نیپال کی تاریخ کے اہم ترین انتخابات میں شامل کر رہی ہے۔

Share This Article