بلوچ سیاسی کارکنوں کے منظم نشانہ بنائے جانے کی صورتحال، بی وائی سی کو شدید تشویش

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی ) نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچ سیاسی کارکنوں کو ریاستی اداروں کی جانب سے منظم طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس پر گہری تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں، طویل حراست اور ہراسانی نے بلوچستان میں سیاسی سرگرمیوں کی گنجائش کو شدید محدود کر دیا ہے۔ یہ واقعات کسی انفرادی کارروائی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں جس کا مقصد سیاسی سرگرمیوں کو روکنا اور اختلافِ رائے کو خاموش کرنا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ سیاسی کارکن عوامی مسائل کو اجاگر کرتے ہیں، کمیونٹیز کو منظم کرتے ہیں اور پرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جب ایسے کارکنوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو پورے معاشرے کی نمائندگی اور تحفظ کمزور ہو جاتا ہے۔

مزید کہا گیا کہ پرامن احتجاج، سوال اٹھانا یا عوامی اجتماعات کا انعقاد اب ایک جمہوری حق کے بجائے قابلِ سزا عمل سمجھا جانے لگا ہے۔

بیان میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC)، نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (NDP)، بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی (BSAC) اور دیگر تنظیموں کے رہنماؤں اور کارکنوں کو مسلسل گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور ہراسانی کا سامنا ہے۔ سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں، احتجاجی مظاہروں پر تشدد اور عوامی اجتماعات پر پابندی اس وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔

بیان میں مختلف واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ:

  • ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، مرکزی آرگنائزر BYC، کو 22 مارچ 2025 کو کوئٹہ میں احتجاج کے دوران حراست میں لیا گیا، بعد ازاں ان پر دہشت گردی اور بغاوت کے الزامات عائد کیے گئے۔
  • بیبو بلوچ کو اسی روز احتجاجی کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا گیا۔
  • بیرگ بلوچ، جو معذور ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ناقد ہیں، کو 20 مارچ 2025 کو ان کے گھر سے اٹھایا گیا۔
  • شاہ جی صبغت اللہ، BYC کے مرکزی رہنما، کو مارچ 2025 میں جبری طور پر حراست میں لیا گیا۔
  • گلزادی بلوچ، انسانی حقوق کارکن، کو 7 اپریل 2025 کو CTD نے گھر پر چھاپے کے دوران گرفتار کیا۔
  • نذر مری، BYC رکن، 27 اگست 2025 سے جبری گمشدگی کا شکار ہیں۔
  • غنی بلوچ، NDP کے رکن، کو 25 مئی 2025 کو سفر کے دوران حراست میں لیا گیا۔
  • ثنا کھیتران بلوچ کو 10 اگست 2025 کو ملتان ایئرپورٹ سے جبری طور پر غائب کیا گیا۔
  • زاہد بلوچ، NDP کراچی زون کے رکن، کو 17 جولائی 2025 کو اغوا کیا گیا۔
  • انسانی حقوق وکلا ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو بھی اپنی قانونی سرگرمیوں کے باعث انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ تمام واقعات اس بات کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں کہ بلوچ سیاسی کارکنوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

مزید کہا گیا کہ اس پالیسی نے سیاسی سرگرمیوں کے لیے جگہ انتہائی محدود کر دی ہے اور عوامی سطح پر خوف اور خاموشی کی فضا پیدا کر دی ہے۔

آخر میں بیان میں کہا گیا کہ بلوچ سیاسی کارکنوں، طلبہ، وکلا اور انسانی حقوق کے محافظوں کے خلاف کارروائیاں نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ جمہوری اقدار کے لیے بھی شدید خطرہ ہیں، اور اس صورتحال پر فوری توجہ اور اقدامات کی ضرورت ہے۔

Share This Article