افغانستان پر پاکستانی حملوں میں24بچوں سمیت 56 شہری ہلاک ہو چکے ہیں ، اقوام متحدہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستان اور افغانستان کی افواج کے درمیان جمعے کو سرحد کے درجنوں مقامات پر شدید فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہوا، جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق ایک ہفتے سے جاری اس تنازع کے باعث ایک لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے جمعے کو ایک بیان میں کہا کہ ’گذشتہ ہفتے پاکستان کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کے بعد سے افغانستان میں 56 شہری ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 24 بچے بھی شامل ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’رواں برس کے آغاز سے اب تک افغانستان میں شہری ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 69 تک پہنچ چکی ہے جبکہ 141 افراد زخمی ہوئے ہیں۔‘

ترک نے پاکستان کی فوج اور افغانستان کی عبوری سکیورٹی فورسز پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر لڑائی بند کریں اور ان لاکھوں افراد کی مدد کو ترجیح دیں جو انسانی امداد پر انحصار کر رہے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جنوبی ایشیا کے یہ دونوں ممالک کئی برسوں کی بدترین جھڑپوں میں مصروف ہیں اور مفاہمت کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ اس صورتحال نے خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا دیا ہے، جہاں پہلے ہی ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باعث کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ایران ایک ایسا ملک ہے جس کی سرحدیں افغانستان اور پاکستان دونوں کے ساتھ ملتی ہیں۔لڑائی کے دوران پاکستان کی جانب سے افغان طالبان حکومت کی تنصیبات پر فضائی حملے بھی کیے گئے، جن میں افغان دارالحکومت کابل کے شمال میں واقع بگرام ایئر بیس بھی شامل ہے۔

Share This Article