بگرام ایئر بیس پر پاکستانی حملوں پر چین کے شدید تحفظات اور ناراضگی

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

پاکستان کی جانب سے افغانستان کے بگرام ایئر بیس پر کی گئی کارروائیوں نے نہ صرف خطے میں جاری پاک افغان کشیدگی کو مزید بڑھایا ہے بلکہ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بھی نئی بے چینی پیدا کر دی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے بگرام میں اپنا ٹارگٹ حاصل کر لیا اور افغان طالبان رجیم کے ایمونیشن سپورٹ انفرااسٹرکچر کو تباہ کر دیا۔

دوسری جانب چین اس پیش رفت کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہا ہے، جس سے خطے میں طاقت کے توازن پر نئے سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ آپریشن دہشت گردی کے خلاف ہے ، افغان عوام کے خلاف نہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق کہ پاکستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان طالبان رجیم ملوث ہے۔ آپریشن غضب للحق صرف دہشت گردوں کے خلاف ہے، سویلین کو نشانہ نہیں بنایا جا رہا۔ اب تک 50 سے زائد اسٹرائیکس افغان طالبان رجیم کے خلاف کی جا چکی ہیں۔ ٹی ٹی پی کی 226 چیک پوسٹیں تباہ اور 36 پر قبضہ کیا جا چکا ہے۔

پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے بگرام میں کارروائی کسی بیان کے جواب میں نہیں بلکہ اپنے اہداف کے حصول کے لیے کی، اور یہ کارروائیاں اہداف مکمل ہونے تک جاری رہیں گی۔

دوسری جانب چین کا موقف ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام ہماری سرمایہ کاری کے لیے خطرہ ہے۔

چین نے بگرام ایئر بیس پر پاکستانی حملوں پر شدید خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

چین سمجھتا ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام اس کی بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری کو نقصان پہنچا سکتا ہے، خصوصاً وہ منصوبے جو بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) سے جڑے ہیں۔ چین کو خدشہ ہے کہ بگرام پر حملہ دراصل امریکہ کی ہدایت پر کیا گیا، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا طالبان سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی ہتھیار واپس کیے جائیں یا تباہ کیے جائیں۔

چین اس کارروائی کو امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہا ہے، جو پاک–چین اسٹریٹجک اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے۔ چین کے نزدیک بگرام پر حملہ خطے میں طاقت کے توازن کو امریکہ کے حق میں جھکا سکتا ہے، جو بیجنگ کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

چین کی ناراضگی کی ایک اور وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ گوادر بندرگاہ مکمل طور پر چین کے کنٹرول میں ہے اور فعال ہو چکی ہے۔ پاکستان نے مبینہ طور پر امریکہ کو پسنی میں بیس کے قیام اور بلوچستان میں تیل، گیس، سونا اور دیگر معدنیات کی مائننگ کے لیے پسنی بیس استعمال کرنے کی پیشکش کی ہے۔ چین اسے اپنے معاشی اور جغرافیائی مفادات کے خلاف سمجھتا ہے، کیونکہ یہ اقدام خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو بڑھا سکتا ہے۔

یہ صورتحال پاک چین تعلقات میں چند اہم چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔

چین پاکستان کا قریبی اسٹریٹجک پارٹنر ہے، مگر افغانستان میں امریکی مفادات کے قریب جانے کا تاثر تعلقات میں اعتماد کے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ افغانستان میں عدم استحکام چین کے لیے براہِ راست خطرہ ہے، خصوصاً سنکیانگ کے حوالے سے۔ پاکستان کی جانب سے بگرام پر حملہ خطے میں نئی سفارتی صف بندیوں کو جنم دے سکتا ہے، جس میں چین محتاط اور پاکستان دباؤ میں دکھائی دیتا ہے۔

خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں پاک چین تعلقات ایک نازک مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ پاکستان کو ایک طرف دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنی ہیں، جبکہ دوسری طرف چین کے ساتھ اسٹریٹجک اعتماد کو برقرار رکھنا بھی ناگزیر ہے۔

Share This Article