بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان سردار ختر مینگل نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کے ایکسٹینشن کیلئے 4ووٹ دیکر 100لاپتہ افراد کو رہا کرکے میں نے گھاٹے کا سودا نہیں کیا ۔
ایمان مزاری ،علی وزیر اور ان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری مسائل کاحل نہیں، نوجوانوں کو اشتعال کی جانب دھکیلا جارہا ہے۔ بلوچستان مسئلے کے حل کیلئے لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کرکے انہیں صفائی کا موقع دیکر حل ہوسکتا ہے۔
سردار اختر مینگل نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جو حکومت مسنگ پرسن کے مسئلے کو حل کیے بغیر بلوچستان کے مسئلے کا حل چاہتے ہیں وہ اس مسئلے کے حل میں مخلص نہیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی 2002سے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے نہ صرف اپنے جلسوں میں قراردادیں پاس کرتے ہیں بلکہ اسلام آباد کے ایوانوں میں ہم نے لاپتہ افراد کیلئے بھر پور آواز اٹھائی ہے تاہم طاقتور قوتیں لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے تیار نہیںہیں۔
انہوں نے کہا کہ 2006میں جب ہم نے لانگ مارچ کیا تھا تو اس وقت بھی ہم نے اس مسئلے کو اٹھایا تھا لیکن ہمیں لانگ مارچ نہیں ہونے دیا گیاہمیں گرفتار کیا گیا۔
ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ 2018کے انتخابات کے بعد ہم نے حکومت کے ساتھ جتنے معاہدے کیے ان میں اکثریت لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے تھے لیکن طاقتور قوتوں نے لاپتہ افراد کو رہائی سے انکار کیا جس پر حکومت نے بھی ہمیں سرخ جھنڈی دکھادیا ۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے بولنے پر پابندی لگائی ہے اس لئے ان کے زیادتیوں پر بات کرتے ہیں جو ہمارے طاقتور اداروں کو پسند نہیں ۔