بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوںنورخاتون اور ان کے بچوں کی ماورائے عدالت گرفتاری اور جبری گمشدگی کے خلاف ہفتے کے روزتربت میں تربت سول سوسائٹی کی جانب سے احتجاج ی مظاہرہ کیا گیا۔
تربت پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نےکہا کہ ریاست اگر بلوچ نسل کشی سے باز نہیں آئی تو ہم سڑکوں پر نکل کر ریاست سے اپنی ننگ و ناموس اور بے حرمتی کا حساب لیں گے۔
مقررین نے کہا کہ زرینہ مری ، نورجان ، ماھل سمیت آوران اور دیگر علاقوں سے بھی ریاستی فورسز بلوچ خواتین کو اجتماعی سزا کا نشانہ بنا کر جبری لاپتہ کرچکی ہیں۔اس طرح کے بزدلانہ عمل کے خلاف بلوچ قوم کو سیاسی مزاحمت تیز کرنے کی ضرورت ہے وگرنہ یونہی ہمارے عورتوں کو اٹھا کر ہماری ننگ روندتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا زرینہ مری سے لے کر آج نوراتون کی گرفتاری اور جبری گمشدگی بلوچ روایات کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔ریاست کو اپنی پالسیاں فوری بدلنی ہوں گی۔ خواتین ، بچوں اور طالب علموں کو مسلسل ہراساں کرنے سے بلوچستان میں بے چینی اور بدامنی میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا آئے روز بلوچستان میں سیکورٹی کے نام پر لوگوں کو اغواء کرکے جبری لاپتہ کیا جا رہا ہے جو سنگین غلطی ہے۔
مذکورہ احتجاجی مظاہرے سے تربت سول سوسائٹی کے صدر گلزاردوست اور انسانی حقوق کمیشن کے رکن محمد کریم گچکی نے خطاب کیا۔
واضع رہے کہ 28 اگست کوکوئٹہ میں ایک ہوٹل سے نورخاتون اور ان کے دو معصوم بچوں عبدالغفار اور بانڑی کی پاکستانی فورسز نے حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔