بلوچستان کے ضلع نوشکی میں40 پرائمری سکول بند اور 7 ہزار کے قریب طلبا کے تعلیم سے محروم ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے ۔
کہا جارہا ہے کہ 40 سرکاری پرائمری سکول اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے گزشتہ تین سال سے بند ہیں اور مزید سکولوں کو بند کرنے کے لیے اساتذہ کا ٹرانسفر کیا جارہا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سیاسی مداخلت ،اعلیٰ آفیسران کی عدم دلچسی اور حکومتی لاپرواہی کے باعث نوشکی کے پرائمری سکولوں میں زیر تعلیم سات ہزار کے قریب بچے اس وقت سکول جانے کی بجائے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اساتذہ نہ ہونے کا بہانہ بنا کر محکمہ تعلیم کے اعلیٰ اور ضلعی آفیسران سکولوں کو بند کرتے جارہے ہیں۔ سیاسی مداخلت، ایسوسی ایشنز کے فرمائش اپنوں کو نوازنے اور باثر ٹیچرز کو ان کی فرمائش پر سکولوں میں تعینات کرنے کی پالیسی منصوبہ بندی کے فقدان نے تعلیم کے شعبے کو تباہ کر دیا ہے۔
لوگوںکا کہنا ہے کہ ناہل آفیسران اپنی کرسی بچانے اور ٹرانسفر کی خوف سے ہر ناجائز اور غلط کام آنکھیں بند کرتے ہیں جس کے منفی اثرات تعلیم جیسے اہم اور حساس شعبے پر پڑھتے ہیں ۔یونین کونسل انام بوستان یونین کونسل مل یونین کونسل ڈاک اور کیشنگی میں چالیس سکوں کی بندش نے والدین کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
دوسری جانب پچیس ہزار سے زاہد بچیاں گرلز مڈل سکولوں تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے پرائمری پاس کرکے آگے تعلیم حاصل نہیں کر سکتیں کیونکہ سکول دور ہونے اور پک اینڈ ڈراپ کا مسلہ ان کی دیگر گائوں کے سکولوں میں جانے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ بدقسمتی سے ان بند سکولوں میں اساتذہ کی تعیناتی کے بارے سول سوسائٹی اور سیاسی رہنما مکمل خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔