بلوچستان کے علاقے کوہلو میں کرسچن خاکروب کے قتل میں ملوث لیویز اہلکار کوگرفتارکرلیا گیا ہے جبکہ دکی سے لاپتہ شخص کی لاش برآمدہوئی ہے ۔
کوہلو میں زکریا مسیح نامی ایک خاکروب کے قتل میں ملوث لیویز کے نائب رسالدار کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔
چار ماہ قبل سپورٹس سٹیڈیم سے ایک لاش ملیتھی جسے پولیس نے شناخت کے لئے ڈسڑکٹ ہیڈکوارٹرہسپتال منتقل کردیا تھا جہاں مقتول کی شناخت زکریا مسیح کے نام سے ہوئی تھی۔
میڈیکل رپورٹ کے مطابق مقتول کی موت سر میں گولی لگنے سے ہوئی ہے۔
ابتدائی اطلاعات میں نوجوان کی موت خودکشی کو ظاہر کردیا لیکن پولیس نے خودکشی کو مشکوک قراردیا تھا۔
زکریا مسیح لیویز میں خاکروب تھا۔
پولیس نے زکریا مسیح کے والد برکت مسیح کی درخواست پر نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے تفتیش شروع کرلی جہاں 4 ماہ گزرنے کے بعد پولیس نے رسالدار میجر کے ڈرائیور نائب رسالدار کو حراست میں لیکر ایف آئی آر میں نامزد کرلیا ہے۔
مزید تفتیش کوہلو پولیس کررہی ہے ۔
عوامی حلقوں نے زکریا مسیح کے ورثا کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ محروم طبقے کرسچن کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے زکریا مسیح کو انصاف فراہم کیا جائے اور افسوس ناک واقع کا صاف و شفاف تحقیقات کرکے اصل ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
دوسری جانب ضلع دکی کے علاقے سلیزئی سے لاپتہ شخص کی لاش برآمدکرلی گئی ۔
گزشتہ روز دکی میں سلیزئی سے لاپتہ ہونے والے شخص محمد حسین کی لاش مل گئی ۔
لاش لورالائی شاہراہ سلیزئی ٹاپ کے مقام سے ملی ہے ۔
محمد حسین بلوچ دو دن قبل رباط سے اپنے گھر سلیزئی کے لئے موٹرسایکل پر روانہ ہوا تھا ۔موٹرسائیکل بے قابو ہونے کی وجہ سے محمد حسین موٹرسایکل سمیت گہری کھائی میں گر گیا تھا۔
تلاش کے دو دن بعد لاش برآمد ہوگئی۔