بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے رہنما سردار اختر مینگل نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو لکھے گئے ایک خط میں نگراں وزیرا عظم کے طور پر انوارلحق کاکڑ کی تقرری پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سرداراختر مینگل نے اپنے خط میں لکھا کہ ’میرا یہ خط 22 جولائی 2022 کے پیغام کا تسلسل ہے، جن مسائل کا ذکر میں نے پہلے کیا تھا کاش اُن میں کمی آتی، آج بھی وہی بلوچستان وہی جبری گمشدگیاں ہیں، سیاسی حل کے بجائے بندوق سے مسئلےکے حل کی کوشش کی جا رہی ہے، ہم پر جو گزری یا گزر رہی ہے وہ ہماری قسمت ہے، حیرانی اس بات سے ہے جو آپ لوگوں پر گزری اُس سے ابھی تک سبق نہیں سیکھا گیا۔‘
بی بی سی سے خصوصی بات کرتے ہوئے سردار اخترمینگل نے کہا کہ ’یہ کہا جا رہا ہے کہ انوارالحق کاکڑ کی تقرری سے بلوچستان کی محرومیاں دور ہوں گی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی محرومیاں جن اداروں کی وجہ سے ہیں انوار الحق کاکڑ نے ان کے ہر غلط اقدام کا دفاع کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’بلوچستان میں لوگ مر رہے ہیں اور اغوا کیے جا رہے ہیں اور نامزد نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے ہر لحاظ سے ان کو صحیح قرار دیا اور وہ یہ کہتے رہے ہیں کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا جس شخص نے غلط اقدامات کا دفاع کر کے اپنی حیثیت بنائی ان سے بلوچستان کے مسائل کے حل کی کیا توقع کی جا سکتی ہے۔
بی این پی کے سربراہ کے مطابق انوار الحق کاکڑ کی تقرری کا مطلب یہ ہے کہ لوگ بلوچستان کے مسائل کو حل نہیں کرنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے کوئٹہ میں چند سال قبل تعینات رہنے والے ایک سینیئر سیکورٹی اہلکار کا نام لیتے ہوئے کہا کہ موجودہ نگراں وزیراعظم کی تقرری ان کی تقرری کے مترادف ہے۔
سردار اختر مینگل نے بتایا کہ انھوں نے اس سے قبل 22جولائی 2022 کو میاں نوازشریف کو ایک خط تحریر کیا تھا جس میں ان سے درخواست کی تھی کہ بلوچستان کے جو معاملات ہیں ان کو اسٹیبلشمنٹ کے حوالے نہ کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ میاں نوازشریف نے یہ کہا تھا کہ وہ شہباز شریف سے بات کریں گے لیکن ان تحفظات کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
بی این پی کے سربراہ نے کہا کہ چند روز قبل جلدبازی میں جو قانون سازی کی گئی وہ سیاسی جماعتوں کے لیے اپنے لیے گھڑے کھودنے کے مترادف ہیں۔
انہوں نے خط میں لکھا کہ اس کا الزام کسی پر ڈالنے کے بجائے ہم اپنی شومئی قسمت کو ہی ٹھہرائیں تو بہتر ہوگا، وہی بلوچستان، وہی جبری گمشدگیاں، سیاسی حل کے بجائے بندوق سے مسلے کے حل کی کوشش کی جارہی ہے، سیاست دانوں کے بجائے اسٹیبلشمنٹ سے آس لگائی جارہی ہے یا اُن کی مشاورت سے مسئلے کا حل تلاش کیا جارہا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ میاں صاحب، ہم پر جو گزری یا گزر رہی ہے وہ ہماری قسمت لیکن حیرانگی اس بات سے ہے جو آپ لوگوں پر گزری اُس سے ابھی تک سبق نہیں سیکھا، ہمیں جنرل ایوب سے لے کر جنرل مشرف کے مظالم اچھی طرح یاد ہیں لیکن آپ کی جماعت مشرف اور باجوہ کی سازشوں اور غیرآئینی اقدامات کو اتنی جلدی فراموش کرگئی۔
اختر مینگل نے لکھا کہ ایک بار پھر رات کی تاریکیوں میں اتحادیوں کو اعتماد میں لیے بغیر قانون سازی کرکے جمہوری اداروں کو کمزور کرنا اور غیر جمہوری طاقتوں کو مزید طاقتور کرنا جمہوریت کے تابوت میں مزید کیلیں ٹھوکنے کے مترادف ہوگا۔
انہوں نے لکھا کہ انسانی حقوق کے برخلاف قانون سازیاں شاید ہم سے زیادہ مستقبل میں آپ حضرات کے ہی خلاف استعمال کیں جائیں گی کیونکہ ہم بلوچستان کے باسیوں کو روزِ اول سے انسان سمجھا ہی نہیں گیا۔
انہوں نے مزید لکھا کہ سی پیک سے اہل بلوچستان کو کیا حاصل ہو، آپ سے بہتر اور کون جان سکتا ہے، کتنے موٹروے، بجلی اور شمسی توانائی کے منصوبے، میٹرو ٹرینوں اور بسوں سے لے کر صحت اور تعلیم کی سہولتوں سے لے کر پینے کے پانی کے جو منصوبے اور سہولتیں مہیا کی گئی ہیں وہ دنیا کی ترقی کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ موجودہ دور میں گوادر یونیورسٹی کے قیام بمقام لاہور کا بھی اعلان کیا گیا جو میں سمجھتا ہوں بلوچستان میں تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرے گا، گوادر ائیرپورٹ کا نام بجائے کسی بلوچستان کی سیاسی یا سماجی شخصیت کے کسی ایسے شخص کے نام کردیا جس کے نام سے شاید ہی بلوچستان کے لوگ واقف ہوں گے۔
اختر مینگل نے خط میں استفسار کیا کہ گزشتہ مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی جوکہ تقریباً 2 کروڑ 24 لاکھ کے قریب بنتی تھی، اسے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں 73 لاکھ کم کرکے کیا پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے؟
انہوں نے لکھا کہ کسی بھی اہم فیصلوں میں اتحادیوں کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلے کرنا بداعتمادی ہی کو دوام بخشے گی، بڑے اور چھوٹے صوبوں کے درمیان نفرتوں کی مٹی سے بنائے گئے اُن میناروں کی اونچائی اور مضبوطی میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوسکتا ہے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ اپنے مفادات کے تحفظ اور اپنی مستقبل میں آنے والی حکومت کی راہ ہموار کرنے کے لیے قانون بنائے اور توڑے بھی جاتے ہیں لیکن اُس کے برعکس اہلِ بلوچستان کو اپنے پیاروں کے لیے آوز اٹھانا اور آنسو بہانا بھی خلافِ قانون ہے۔
اختر مینگل نے خط میں نواز شریف کو یاددہانی کروائی کہ آپ کے گزشتہ 2 دورِ حکومت میں بھی یہ سب کچھ ہوتا رہا اور ہم پچھلی بار کی طرح اس بار بھی یہ تصور اور خیال کر بیٹھے کہ شاید اُن تلخ تجربات کے بعد آپ کی جماعت کو اب احساس ہوگیا ہوگا لیکن آپ کی جماعت نے ہمیں پہلے بھی غلط ثابت کیا اور اب بھی۔
انہوں نے لکھا کہ کاش کہ ہمیں مطالعہ پاکستان کی نصاب کی کتابوں میں گزشتہ 76 سالہ تاریخ پڑاھائی جاتی تو شاید ہم تاریخ سے سبق حاصل کرتے لیکن اب تو ہم اور آپ تاریخ کے سامنے صرف اور صرف جواب دے ہیں اور جواب دے رہے ہیں۔
خط کے اختتام میں سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ نگران وزیراعظم کے لیے ایسے شخص کی نامزدگی کی گئی جس سے ہمارے لیے سیاست کے دروازے بند کر دیے گئے، آپ کے اس طرح کے فیصلوں نے آپ کے اور ہمارے درمیان مزید دوریاں پیدا کر دیں۔