بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں قلات و تربت میں پاکستانی فوج کے آلہ کاروں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
ترجمان کا کہنا تھاکہ ہمارے سرمچاروں نے قلات اور تربت میں دو مختلف حملوں میں قابض پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کے آلہ کاروں کو نشانہ بنایا، حملوں میں دو آلہ کار ہلاک ہوگئے۔
انہوں نے کہاکہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے گذشتہ رات قلات کے علاقے منگچر میں جوہان کراس کے مقام پر فائرنگ کرکے ایک آلہ کار کو ہلاک کردیا، مذکورہ کارندہ کافی عرصے سے پاگل کا روپ دھار کر منگچر سمیت قلات شہر میں قابض پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کیلئے مخبری کررہا تھا۔
ترجمان نے کہاکہ دریں اثناء آج بی ایل اے کے سرمچاروں نے تربت کے علاقے سنگانی سر میں رہائشی کوارٹر میں قابض پاکستانی فوج کے آلہ کار سفیان ولد عبدالحمید سکنہ کراچی کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔ مذکورہ کارندہ گوادر میں دشمن فوج کے پیرول پر مخبری کرنے کے بعد تربت منتقل ہوگیا تھا جبکہ گذشتہ کئی دنوں سے رہائشی کوارٹر میں چھپ کر بیٹھا تھا۔
انہوں نے کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی نے گذشتہ دنوں 29 جولائی کو اپنے بیان میں واضح کیا تھا کہ تربت شہر و گردنواح میں ہوٹل و رہائشی کوارٹر مالکان ایسے افراد کو جگہ فراہم کرنے سے گریز کریں بصورت دیگر اپنے جانی و مالی نقصان کے ذمہ دار خود ہونگے۔
بیان میں کہاگیا کہ بلوچ لبریشن آرمی ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ مقصد کے حصول تک قابض پاکستانی فوج اور اس کے شراکت داروں پر ہمارے حملے جاری رہینگے۔