افغانستان میں طالبان حکومت نے ایرانی رہنما خمینی کے دفتر سے وابستہ امدادی تنظیم ’’ خمینی فاؤنڈیشن‘‘ کی نمائندگی کرنے والے دفاتر کو معطل کر دیا ۔ اس کمیٹی کے سربراہ خمینی کے پوتے حسن خمینی ہیں۔
خمینی فاؤنڈیشن کے ترجمان جماران ویب سائٹ نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ طالبان فورسز نے کابل کے دفتر کو بند کرنے کے تقریباً ایک ماہ بعد مزار شریف اور ہرات کے شہروں میں دفاتر کو بند کرنے کے احکامات جاری کر دئیے۔
ویب سائٹ ’’ جماران‘‘نے مزید کہا کہ طالبان فورسز نے ایران کے ساتھ سرحد پر واقع صوبہ نمروز کے مرکز میں کمیٹی کے دفاتر کا معائنہ کیا لیکن وہ اب بھی اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ویب سائٹ نے کہا کہ طالبان تحریک کی طرف سے کمیٹی کے دفاتر کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے جاری کردہ نیا حکم پیشگی اطلاع کے بغیر دیا گیا اور کوئی درست یا قانونی وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔ کمیٹی کے پاس کمیٹی لائسنس موجود ہے۔ یہ افغان وزارت محنت اور وزارت اقتصادیات کو ٹیکس ادا کر رہی ہے۔
جماران کے مطابق ایرانی سینٹر کی سرگرمیاں منجمد کرنے کے احکامات ایک ایسے وقت میں جاری کیے گئے جب بیرون ممالک کے ریلیف سنٹر کے دفاتر افغانستان میں بغیر کسی پابندی کے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ویب سائٹ نے کہا طالبان تحریک نے اقتدار میں واپسی کے بعد کمیٹی کی سرگرمیوں کی مخالفت نہیں کی تھی۔ اس کمیٹی کے دفاتر کابل، مزار شریف، ہرات اور زرنج ریاست نمروز کے مرکز میں ہیں۔