بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور پاکستان قومی اسمبلی کے رکن سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ مسلح گروہوں کو بعض اداروں کی سرپرستی حاصل ہے اور انہیں بلوچستان میں فسادات کرانے کی برسوں سے کھلی چھوٹ ہے۔
میڈیا کوانہوں نے بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے توتک میں اجتماعی قبریں ملنے کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وڈھ بے امنی میں بھی وہی عناصر ملوث ہیں۔
سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ بے امنی میں ملوث مسلح گروپ قوم پرستوں اور ان دیگر سیاسی جماعتوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں جو بلوچستان میں جمہوریت کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔
انہوں نےکہا کہ ریاست خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے جب کہبلوچستان میں ٹرانسپورٹرز اور زمیندار اغوا، بھتہ خوری اور دیگر دھمکیوں کا شکار ہیں۔