بی این پی مینگل کی کال پر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پہیہ جام ہڑتال کی جا رہیہے ۔
بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کی کال پر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مین قومی شاہراہیں صبح سے بند کر دی گئی ہیں، ٹریفک کیلئے آمدورفت معطل ہے۔
ہڑتال کی کال بی این پی مینگل نے گزشتہ دنوں وڈھ میں پیش آنے والے کشیدہ حالات کے باعث دیا ہوا ہے جہاں مینگل قبیلے کے دو گروہوں کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ صورتحال اختیار کر گئے تھے اور دونوں فریقین ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہو گئے تھے، جن میں سے ایک گروہ کی سرپرستی بدنام زمانہ ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ اور جھالاوان پینل کے سربراہ شفیق الرحمان مینگل کر رہے ہیں جبکہ دوسرے گروہ کی سرپرستی بی این پی مینگل کے سربراہ اور حزب اقتدار میں رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل کر رہے ہیں۔
بی این پی مینگل کا بیانیہ ہے کہ شفیق الرحمان مینگل علاقے میں اغواء کاری، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، جبری گمشدگیوں اور بد امنی پھیلانے میں ملوث ہیں اور اسکی سرپرستی ریاستی مقتدرہ ادارے کر رہے ہیں۔
آج کے پہیہ جام ہڑتال کے حوالے سے بی این پی مینگل کا کہنا ہے کہ ہم ان قوتوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ ان مسلح جھتوں کو غیر مسلح کریں اور انکے خلاف کارروائی کریں ۔
آزاد زرائع کے مطابق بی این پی مینگل کے پہیہ جام ہڑتال سے عام لوگ شدید پریشانی سے دوچار ہیں۔
لوگوں کا ماننا ہے کہ بی این پی مینگل خود کو قوم پرست پارٹی کہلاتی ہے لیکن آج تک قومی مسئلوں پہ کبھی پہیہ جام یا کسی ہڑتال کی کال نہیں دی ہے۔موصولہ کچھ ویڈیو کلپس میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ بیمار راہ
گیروں اور خواتین کو رستہ نہیں دیا جا رہا ہے جو بی این پی کے ورکروں کے سامنے رو کر ہاتھ باندھ کر رستہ دینے کی التجا کر رہے ہیں جبکہ بی این پی مینگل کے ذرائع ان باتوں کی تردید کرتے ہیں اور ایک وضاحتی بیان میں انکے ضلعی صدر اس بات کی تردید کرتے ہیں اور اسے ایک منفی پروپیگنڈہ قرار دیتے ہیں۔