بلوچستان کے ٹرانسپورٹرزنے بلوچستان کے شاہراہوں پرجگہ جگہ پاکستانی فورسز کی چیک پوسٹوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے ۔
اس سلسلے میں چیئرمین بلوچستان بس ٹرانسپورٹ فیڈریشن محمود خان بادینی نے کہاہے کہ بلوچستان خصوصاً رخشان ڈویژن کی نیشنل ہائی ویز پرکسٹم ودیگر اداروں کی قائم جگہ جگہ چیک پوسٹوں سے عوام اورٹرانسپورز کودرپیش مشکلات سے متعلق اعلیٰ وسول حکام کی جانب سے ہمارے اس بیانیے کی تائید کیے جانے کے باوجود کسٹم و دیگر وفاقی و صوبائی اداروں کی چیک پوسٹیں تاحال اپنی پرانی روش نیشنل ہائی ویز پر برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسکے شواہد این چالیس کوئٹہ تفتان روٹ پر موجود ہیں کم از کم ان چیک پوسٹوں کو کچھ عرصہ کیلئے او ایس ڈی کیا جاتا تاکہ جمہوری نمائندوں کی کچھ ساکھ باقی رہ جاتی کیونکہ بلوچستان کابینہ کے وزرا بمائے اپنے وزیراعلیٰ نے انہیں غیر ضروری قرار دے کر نیشنل ہائی ویز پر سے ہٹانے کا اعلان کرچکے ہیں جبکہ اس سے قبل ہماری شکایت پر وفاقی وزیر محمد ہاشم نوتیزئی کے توسط سے وزیراعظم پاکستان نے اپنے ایک مراسلہ مورخہ 7,6,2023 چیف سیکرٹری بلوچستان کو ارسال کی کہ ان غیر ضروری چیک پوسٹوں کو ڈی مالش کرنے کے اقدامات کریں ۔
انہوں نے کہا کہ کچھ اسی طرح چیئرمین سینیٹ موجودہ قائمقام صدر پاکستان محمد صادق خان سنجرانی نے ہماری شکایات پر چیئرمین ایف بی آر سے نیشنل ہائی ویز پر سے اینٹی اسمگلنگ چیک پوسٹوں کو ہٹانے کی شفارش کی تھی جبکہ گورنر بلوچستان نے بھی ایک ملاقات کے موقع پر ان چیک پوسٹوں کو ہٹانے کے لیے اقدامات کی یقین دہانی کرائی تھی۔
چیئرمین بلوچستان بس ٹرانسپورٹ فیڈریشن کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ ان سب کے باوجود کسٹم وغیرہ کی چیک پوسٹیں بلوچستان کی نیشنل ہائی ویز پر تاحال برقرار ہیں بلکہ کوئٹہ تفتان روٹ پر صرف کسٹم کی پانچ چیکنگ پوائنٹس ہیں، لہٰذا ہماری التجا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ اختیار دار اب عملی طور پر ان اینٹی اسمگلنگ اور امن و امان کے نام پر قائم چیک پوسٹوں کو نیشنل ہائی ویز سے ہٹاکر انہیں بارڈرز زیرو پوائنٹس پر منتقل کریں وہاں ممنوعہ ایشیا کے نقل و حمل کو یقینی بنائے۔