براستہ بلوچستان ہر سال 40 ہزار افراد یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں، رپورٹ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان غیر قانونی طور پر بیرون ممالک جانے والے افراد کیلئے ایک اہم گزرگاہ بن گیاہے۔

انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہ ،میڈیا اور حکومتی اعداد و شمار کے مطابق براستہ بلوچستان ہر سال30 سے 40 ہزار نوجوان ایران کے راستے یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔جن میں 20سے 25 ہزار نوجوان بلوچستان ایران سرحد پر پکڑے جاتے ہیں تو کئی ہزار لوگ ایران اور ترکیہ سے ہوتے ہوئے یورپ پہنچ جاتے ہیں ۔ان کٹھن و دشوار گزار راستوں میں سینکڑوں افراد اپنی جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔تاہم بلوچستان میں موجود انسانی اسمگلرز اور ایجنٹس کے خلاف کوئی بڑی کارروائی ہوتی نظر نہیں آئی۔

بلوچستان سے ملحقہ ایرانی بارڈر ہے، تفتان ، زمران ، واشک، ماشکیل،وہ علاقے ہیں جہاں کاروباری سرگرمیوں کے علاوہ ان راستوں سے ہر ماہ ہزاروں افراد غیر قانونی طور پر بہتر روزگار کی تلاش میں ایران اور ترکیہ کے راستوں سے یورپی ممالک جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ان میں بیشتر افراد نوشکی سے لیکر تفتان تک کے سفر میں لیویز کے ہاتھوں پکڑے جاتے ہیں کچھ ایران یا پھر ترکیہ میں دھر لیے جاتے ہیں، پھر بھی کئی خوش قسمت نوجوان کھٹن، راستوں سے ہوتے ہوئے یورپ پہنچ ہی جاتے ہیں۔

لیویز اور ایف آئی اے حکام کے مطابق غیر قانونی طور پر چاغی کے راستے ایران جانے والے 20 سے 25 ہزار افراد ہر سال پکڑے جاتے ہیں، لیویز یا ایرانی حکام پکڑے جانے والے افراد کو ایف آئی اے کے حوالے کرتے ہیں۔

لیویز اور ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ جو نوجوان پکڑے جاتے ہیں زیادہ ترکا تعلق گجرات، ساہیوال ، چیچہ وطنی اور اوکاڑہ سے ہوتا ہے ، جہاں کے انسانی اسمگلر ز بلوچستان میں موجود ایجنٹس کے ذریعے ان نوجوانوں کو بیرون ممالک بھجواتے ہیں۔کئی افراد تو گرم موسم میں ماشکیل، زمران کی گرمی کا شکار ہوکر مر جاتے ہیں جنہیں ایجنٹس وہاں ہی پھینک کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ بلوچستان کے راستے ناصرفپاکستان کے دیگر شہروں بلکہ ہمسایہ ملک افغانستان سے بھی بیروزگار افراد کو غیرقانونی طور پر یورپی ممالک بھجوائے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment