مولانا ہدایت الرحمان ساڑھے چار مہینے بعد جیل سے رہا

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

حق دو تحریک کے رہنما مولانا ہدایت الرحمان ساڑھے چار مہینے کے بعد ضمانت پر جیل سے رہاہوگئے۔

گوادر میں جوڈیشل لاک اپ کے سامنے کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی، حق دو تحریک کے کارکنان کو مولانا ہدایت الرحمن کو جوڈیشل لاک اپ سے ریلی کی شکل میں حق دو تحریک کے مرکزی دفتر لے گئے۔

دفتر پہنچنے پر حق دو تحریک کے قائد پر پھول پاشی کی گئی اور پھولوں کے ہار پہنائے گئے۔

جماعت اسلامی بلوچستان امیر مولانا عبدالحق ہاشمی، حاجی انور دشتی، سمیت خواتین کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

بعد ازاں جلوس کی شکل میں مولانا ہدایت الرحمن کو ان کے آبائی علاقے سربندن لے جایا گیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی بلوچستان جنرل سیکرٹری و حق دو تحریک بلوچستان کے قائد مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ میں نے جیل، مقدمات، عدالتیں، ججز سب دیکھ لیں اب سرکار بتادے وہ میرے ساتھ کیا کرینگے۔ پولیس کانسٹیبل یاسر کے قاتلوں کا سراغ لگانا ہماری ذمہ داری ہے، ہم شہید یاسر کے خاندان کے ساتھ ہیں۔ 26 دسمبر ہر سال یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا۔ ہر گھنٹے بعد نوجوانان۔ بزرگوں نے جیل آکر مجھے حوصلہ دیا کہ آپ کامیاب ہونگے اس لیے جیل کے اندر یہ ساڑھے چار ماہ کیسے گزرے پتہ ہی نہیں چلا۔ جب سے میں نے پاکستان میں سیاست شروع کی تو سیاست دانوں میں دو چیزیں دیکھ لیں ایک لالچ اور ایک خوف، سیاست میں یا قوم کی سودا بازی کرو یا موت کو گلے لگاکر جدوجہد کرو۔ ساڑھے چار ماہ جیل میں رہ کر ایک دن بھی یہ خیال نہیں آیا کہ ہم غلط تھے۔

انہوں نے کہاکہ ہم اس لیے قید نہیں ہوئے کہ ہم نے یتیموں کے پیسے ہڑپ کرلیے۔ غریبوں کی زمینوں پر قبضہ کرلیا۔ ٹرالروں سے بھتہ لینے یا ڈرگ مافیا کی سرپرستی کی ہے، ہمیں قید کیا گیا بلکہ ہمیں اس لیے قید کیا گیا کہ ہم نے کیوں ٹرالوں سے جوڑ توڑ نہیں کیا، ان سے بھتہ کیوں نہیں لیا۔ ڈرگ مافیا کی کیوں سرپرستی نہیں کی۔ مائوں، بچوں، بزرگوں کی دعائوں اور حوصلوں کی بدولت کامیابی ملی ہے۔

انھوں نے کھاکہ میرے رہا ہونے کے بعد اب ٹرالر بھی بھاگ جائیں گے۔ کنٹانی بھی اب کبھی بند نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ساحل بلوچستان کی حفاظت کرینگے۔ ساحل بلوچستان پر فوری طور پر ٹرالروں کیخلاف آپریشن کیا جائے۔ ٹرالروں نے سمندر کو تاراج کیا ہے۔ ماہیگیروں کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ فشریز آفیسر کو اغواءکرکے لے گئے، اب ٹرالروں کو بھاگنا پڑیگا۔

انہوں نے کہا کہ ہم گوادر پورٹ کو چلانا چاہتے ہیں اگر کوئی گوادر پورٹ کیخلاف سازش کرے گا تو ہم اسے ناکام بنادینگے۔ ہم سی پیک کے مخالف نہیں سی پیک کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہوگا آپ گوادر پورٹ چلاؤ اور ہمارے بچے انجکشن نہ ہونے کے سبب مرجائیں۔ آپ سی پیک چلاؤ اور ہمارے نوجوان ایمبولینس میں آکسیجن نہ ہونے سے زندگی کی بازی ہار جاہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپنی قوم، سرزمین اور اپنی جدوجہد سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

Share This Article
Leave a Comment