پاکستان سپریم کورٹ نے حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کردیاہے۔
اس سلسلے میں سپریم کورٹ نے 3 لاکھ روپے کے دو ضمانتی مچلکے جمع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
واضع رہے کہ مولانا ہدایت الرحمن گذشتہ چار مہینوں سے قید ہیں، ان پر احتجاج کے دوران پولیس کانسٹیبل کوقتل کرنے کا الزام ہے۔
مولانا ہدایت الرحمن حق دو تحریک کے قائد ہیں، ان کی تحریک گوادر کو بنیادی حقوق دلانے کے لیے شروع کی گئی تھی تاہم بعد میں مولانا ہدایت الرحمن نے تحریک کا دائرہ بلوچستان کے دیگر اضلاع تک بڑھا تحریک کے نام سے گوادر الگ کرکے اسے حق دو تحریک کردیا۔
گوادر میں ایک تاریخی احتجاج کے دوران مولا ہدایت الرحمن اور ان کے ہزاروں حامیوں کے خلاف پولیس کی کریک ڈاؤن کے دوران کشیدہ صورتحال پیدا ہوگئے جس میں ایک پولیس اہلکار کو گولی مار دی گئی۔
بلوچستان حکومت نے پولیس اہلکار کے قتل کا الزام مولانا ہدایت الرحمن پر عائد کرکے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی اور گرفتاری عمل میں لائی گئی ۔
مولانا ہدایت الرحمن گزشتہ چار مہینوں سے کوئٹہ اور گوادر کی مختلف جیلوں میں قید رہے ہیں، مولانا اپنی گرفتاری کا الزام بی این پی مینگل اور گوادر سے منتخب نمائندہ حمل کلمتی پر لگاتے رہے ہیں۔