برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بیل اس وقت یوکرین میں ہیں اور وہ اگلے مورچوں پر یوکرین کی فوج کی کارروائیوں سے متعلق رپورٹ کر رہے ہیں۔
بی بی سی پر شائع ہونے والی ان کی ایک خبر میں یوکرین فوج کی 17 ٹینک بٹالین کے کمانڈر نے جہاں ایک جانب پاکستان سمیت دیگر ممالک سے راکٹ ملنے کی بات کی تھی وہیں انھوں گلہ کیا تھا کہ ’پاکستان سے آنے والے راکٹ معیاری نہیں ہیں۔‘
یوکرینی فوج کے ایک کمانڈر کی جانب سے انھیں ملنے والے پاکستانی اسلحے کے ’غیرمعیاری‘ ہونے کے دعوے کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا پاکستان یوکرین میں روسی فوج سے برسرپیکار فوجیوں کو اسلحہ دے رہا ہے یا نہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بار پھر روس، یوکرین جنگ میں یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کے دعوؤں کو مسترد کیا ہے۔
یوکرین فوج کی 17 ٹینک بٹالین کے کمانڈر ولودیمیر نے بی بی سی کے دفاعی نامہ نگار جوناتھن بیل سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یوکرین اپنا گریڈ ایمونیشن ختم کر چکا ہے اس لیے اب دوسرے ممالک سے حاصل ہونے والے راکٹوں پر انحصار کر رہا ہے۔ اور اس ضمن میں یوکرین کی فوج کو ’چیک ریپبلک، رومانیہ اور پاکستان سے سپلائی آ رہی ہے۔‘