ایران کے شمالی علاقے میں ملک کی طاقت ور مجلس خبرگان رہبری کے رکن کو ایک بینک میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق عباس علی سلیمانی پر یہ حملہ مزندران صوبے میں بابولسر کے ایک بینک میں کیا گیا۔
مقامی گورنر کا کہنا تھا کہ حملہ آور بینک کا سکیورٹی گارڈ تھا جسے حراست میں لیا جا چکا ہے تاہم اس حملے کی وجہ واضح نہیں ہو سکی۔
واضح رہے کہ سلیمانی مجلس خبرگان رہبری کے 88 اراکین میں سے ایک تھے جو ملک کے سپریم لیڈر کی تقرری کرتی ہے۔
یہ مجلس ملک کے سپریم لیڈر کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیتی ہے اور اس کے پاس یہ اختیار ہے کہ اگر رہبر اعلی اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہے تو ان کو ہٹا دے۔
اس سے قبل سلیمانی 17 سال تک جنوب مشرقی صوبے سیستان بلوچستان میں ایران کے موجودہ رہبر علی خامنہ ای کے نمائندے کے طور پر تعینات رہے اور 2019 میں اس عہدے سے مستعفی ہوئے۔
سلیمانی ایران میں تمام مقامات پر خواتین اور مردوں کی صنفی علیحدگی کے حامی تھے۔
ستر سالہ سلیمانی ذاتی کام کے سلسلے میں بینک میں موجود تھے جب ان پر بدھ کے دن حملہ کیا گیا۔