بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہدا کیلئے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کو آج 5017 دن ہوگئے ۔
کانک مستونگ سے غلام دستگیر بلوچ، موسیٰ خان بلوچ اور دیگر نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی ۔
وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفود سے کہا کہ لاشیں پھینکنا حکمرانوں کا شیوہ ہے جدوجہد کی عظیم مقصد کو لے کر چلنے والوں کی لاشیں مسخ شدہ پھینکنے سے با مقصد قربانی سے شہدا کا فکر جدوجہد بلوچ قوم میں مزید نشوونما پائے گا اور ائندہ نسلوں کو خوشحالی دے گی۔ ریاست اپنی گرتی ہوئی معاشی اقتصادی کو ساکھ بچانے کیلئے ہر قسم کی حرکت کر گزرتی ہے گھروں کو اگ لگوانا صحافیوں اور دانشوروں کو شہید کرنا قبائلوں کو آپس میں لڑانے جیسی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے جو تہذیب ثقافت کو مسخ کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق اور شہری تنظیمیں سول سوسائٹی سیاسی پارٹیان ریاستی حکمرانوں کا گنھاو نا چہرہ پہچان چکے ہیں اور ان میں کچھ حد تک بولنے کا حوصلہ پیدا ہو چکا ہے لیکن مقابلے کی طاقت پیدا کرنے سے ہی استحصالی نظام کمزور کیا جاسکتا ہے پاکستان نے مقبوضہ قوموں کو بند گلی پسا دیا ہے عوام مسلسل سماجی سیاسی معاشی بحرانوں کی میں زد میں ہے۔ پاکستان اپنے زندگی کی اخری ود گزار رہا ہے مرنے سے پہلے کرپٹ تنظیموں اور مجرموں کو طاقتور بنا کر وراثت میں چھوڑ رہی ہے۔ پاکستان کے زرائع ابلاغ خفیہ ادارے سی ٹی ڈی ایف سے اور انکے پر وردہ مضمون نولیس نام نہاد دانشور ثابت کرنا چاہتی ہیں کہ عوام بدتہذیب کرپٹ اوا بگڑا ہے ۔
ماما قدیر بلوچ نے ماھل بلوچ کے میڈیا ٹرائل پہ ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ماھل بلوچ میڈیا ٹرائل قانون کی حکمرانی کی صریح خلاف ورزی اور عدالتی کارروائی کو متاثر کرنے کی کوشش ہے، دنیا میں کہیں بھی کوئی ایسا ملزم جس پر ابھی تک فرد جرم عائد نہیں ہوئی ہے انکو کیسے میڈیا پہ آکر انٹرویو کرواتے ہیں، سوچنے کی بات ہی میڈیا تک رسائی کون دے رہا ہے اور اس زندانی نے کہلوانا کیا چاہ رہے ہیں؟ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا ہے کہ میں سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ماھل بلوچ کے میڈیا ٹرائل کا نوٹس لیں جو اس وقت عدالتی کارروائی کا سامنا کر رہی ہیں، اسکے علاوہ اس نے انسانی حقوق کی تنظیموں کو منشن کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ماھل بلوچ کا میڈیا ٹرائل روکنے کیلئے پاکستانی ریاست پہ دباؤ ڈالیں۔