بلوچ آزادی پسند رہنما اختر ندیم بلوچ نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹیوٹر پر اپنے ایک ٹیوٹ میں لکھا ہے کہ
بے نظیر کی عریاں تصویریں پوسٹ کرنا، مریم نواز کے بیڈ روم پر حملہ، اعظم سواتی کی مباشرت کی ویڈیو لیک کرنا؛ اس سب کے بعد اگر کوئی ماہل بلوچ کے جبری اعتراف پر ابہام کا شکار ہے تو ان کی ذہنی حالت مشکوک ہے۔ ظلم کے خلاف ماہل کے خاندان کی قربانیاں اور عزم ایک تاریخی داستان ہے۔
واضح رہے کہ پاکستانی فورسز کی جانب سے ماہل بلوچ پر جھوٹے مقدمات درج کرنے کے ساتھ انکو چار بار سی ٹی ڈی نے ریمانڈ پر لینے کے بعد جبرا ایک اعترافی ویڈیو ریکارڈ کرایا جس کے بعد سوشل میڈیا میں پاکستانی آئین و قوانین و عدلیہ پر کئی سوالات اُٹھانے کے ساتھ بلوچ ایکٹیوسٹس کی جانب سے اسے فوجی جارحیت اور بلوچ خواتین پر دباؤ قرار دے رہے ہیں۔