بلوچ آزادی پسند رہنما رحیم بلوچ ایڈووکیٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹیوٹر پر اپنے ٹیوٹ میں کہا کہ
ایک من گھڑت کیس میں ماہل بلوچ کا سی ٹی ڈی کے پاس بار بار جسمانی ریمانڈ یقینا پاکستان کی پولیس اور کینگرو عدالتوں کی طرف سے قانونی طاقت، طریقہ کار اور طریقہ کار کا غلط استعمال ہے۔ اس کا مقصد بلوچ خواتین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو دہشت زدہ اور ہراساں کرنا ہے۔
واضح رہے کہ ماہل بلوچ کو پاکستانی فورسز نے گرفتاری بعد ان پر جعلی مقدمہ قائم کیا اور تاحال وہ فورسز کی ریمانڈ پر ہیں۔