بلوچستان یونیورسٹی کے اساتذہ و ملازمین کاتنخواہوں کی عدم ادائیگی کیخلاف احتجاج

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے زیرانتظام جمعرات کو مارچ کے مہینے کی تنخواہ کی عدم ادائیگی اور بلوچستان یونیورسٹیز ایکٹ2022 ءمیں اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین و طلبا وطالبات کی منتخب نمائندگی و دیگر جائز حقوق کے لئے ایک بڑی احتجاجی مظاہرہ جامعہ کے آرٹس بلاک سے شروع ہوکر جامعہ کے مختلف شعبہ جات سے ھوتے ھوئے وائس چانسلر سیکرٹریٹ میں احتجاجی دھرنے میں تبدیل ھوا۔

احتجاجی دھرنا زیرصدارت پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ منعقد ھوا۔

احتجاجی دھرنےسے ایمپللائز ایسوسی ایشن کے صدر شاہ علی بگٹی ، آفیسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نذیر احمد لہڑی، پروفیسر فرید خان اچکزئی، نعمت اللہ کاکڑ، گل جان کاکڑ، حافط عبدالقیوم اور محبوب شاھ نے خطاب کیا ۔

مقررین نےکہا کہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی مسلسل سخت مالی و انتظامی بحران کا شکارہےاور بنیادی حق ماہانہ تنخواہ کی تاحال ادائیگی ممکن نہیں ھوئی ہے۔

انہوں نےکہا کہ آفیسران اور ملازمین کی چھ سالوں سے زیر التوا پروموشنز و آپ گریڈیشن اور ٹائم سکیل کی منظوری نہیں دی جا رہی اور ڈی ار اے کی بقایاجات کی ادائیگی بھی ابھی تک نہیں کی گئی اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیرانتظام مالی و انتظامی بحران کی مستقل حل اور بلوچستان ایکٹ 2022 میں اساتذہ کرام،، آفیسران، ملازمین و انکی ایسوسی ایشنز و طلبا وطالبات کی منتخب نمائندگی کےلئے گرینڈ ڈائیلاگ کے اعلامیئے اور سفارشات پر عمل درآمد نہیں کی جارہی۔

مقررین نے سخت افسوس اور تشویش کا اظہار کیا کہ ہر مہینے کی تنخواہ کے لئے احتجاج کرنا پڑتا ہے اور مارچ کے مہینے میں بچوں کے سکول اخراجات اور رمضان المبارک کے مہینے کی آمد میں خطیر رقم کی ضرورت ہوتی ہیں لیکن مارچ کے 9 روز گزرنے کے باوجود تاحال تنخواہ کی ادائیگی نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ جامعہ بلوچستان کو درپیش سخت مالی و انتظامی بحران کی بنیادی وجہ غیرقانونی طورپرمسلط وائس چانسلر ہے اور مطالبہ کیا کہ نااہل وائس چانسلر کو فوری برطرف کیا جائے ۔

مقررین نے اعلان کیا کہ جمعہ کو جامعہ بلوچستان میں آرٹس بلاک سے دن گیارہ بجے احتجاجی مظاہرہ ہوگا اور سوموار سے جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر سیکرٹریٹ میں احتجاجی کیمپ لگایا جائے گا ۔

مقررین نے وزیراعلیٰ و گورنر بلوچستان، مرکزی حکومت اور ایچ ای سی کے چیئرمین سے پرزور مطالبہ کیا کہ جامعہ بلوچستان کو درپیش مالی بحران کی خاتمے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے۔

Share This Article
Leave a Comment