بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل نے ماہل بلوچ کی اغوا نما گرفتاری اور ان پربے بنیاد وبوگس مقدمات کوفوری ختم نہ کرنے کی صورت میں وفاقی حکومت سے علیحدہ اوربلوچستان حکومت کی حمایت سے دستربرادر ہونیکا اعلان کیا ہے ۔
یہ اعلان پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جہانزیب بلوچ اوردیگررہنمائوں نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بلوچستان کے لاپتہ افراد کی بازیابی اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف لگائے گئے ایک روزہ احتجاجی بھوک ہڑتالی کیمپ کے اختتام پر پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
اس موقع پرپارٹی کے مرکزی قائمقام صدر ملک عبدالولی کاکڑ، مرکزی سیکرٹری جنرل واجہ جہانزیب بلوچ نے اپنے دیگر ساتھیوں وفاقی وزیر مملکت میر ہاشم خان نوتیزئی، بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر ملک نصیر احمد شاہوانی، اختر حسین لانگو، ثنابلوچ، اکبر مینگل، شکیلہ نوید دہوار، احمد نواز بلوچ، غلام نبی مری، حاجی عبدالباسط لہڑی، ٹکری شفقت لانگو، موسی بلوچ، جاوید احمد بلوچ ، میر جمال لانگو سمیت دیگر بھی موجود تھے۔
مرکزی سیکرٹری جنرل واجہ جہانزیب بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے، فروری میں رحیم زہری اور اسکی اہلیہ رشیدہ بی بی کو کوئٹہ سے اٹھایا گیا جس کے خلاف ہماری جماعت نے آواز بلند کی اور پارٹی کی آواز کو دبانے کیلئے غیر قانونی اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال کیا جارہاہے، اس کے بعد گزشتہ دنوں سیٹلائٹ ٹاؤن کے علاقے سے اس کے گھر سے ماہل بلوچ کو اٹھایا گیا اور دوسرے روز اس کو پارک کے قریب سے گرفتار کرنے کا تاثر دیا گیا، آج بھی ماہل بلوچ کے یتیم بچے اپنی ماں اور انصاف کے لیے ریڈ زون میں بیٹھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت کے وفد نے بھی بلوچستان میں لاپتہ افراد اور دیگر ہونے والی زیادتی، غیر قانونی اقدامات کے حوالے سے وزیر اعظم کو ملاقات میں آگاہ کیا گیا ہے اور ہم نے وزیراعظم کو بھی ماہل بلوچ کے معاملے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ماہل بلوچ کو گھر سے اٹھا کر پارک سے گرفتاری ظاہر کی گئی ہے، یہ اقدامات درست نہیں ،وزیر اعظم شہباز شریف نے معاملے سے متعلق وقت مانگا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت اس حوالے سے چیزوں کا جائزہ لے رہی ہے اور میں بہت جلد بلوچستان آکر ان چیزوں کے حوالے سے جائزہ لیں گے اور حالات کی بہتری کے لئے اقدامات کی یقین دہانی کرائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی این پی ماہل بلوچ پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتی ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ اس پر درج ایف آئی آر ختم کرکے اسے رہا کیا جائے، پہلے بلوچستان میں لوگوں کو اٹھایا جاتاتھا اب ہمارے گھروں میں چھاپے مار کر ہماری خواتین کو بھی نہیں بخشا جارہا ہے اس طرح کے حالات پیدا کئے جارہے ہیں جس سے بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آرہی ہے ہماری جماعت سیاسی اور جمہوری ہے اور بلوچستان کے مسئلے کا حل سیاسی طور پر چاہتے ہیں موجودہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں، ہماری جماعت کا موقف ہے کہ عام انتخابات آئین کے مطابق وقت پر ہونے چاہئیں۔
اس موقع پر پارٹی کے مرکزی قائمقام صدر ملک عبدالولی کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ لاپتہ افراد کا ہے، اس مسئلے پر ہم نے پہلے بھی قومی، و صوبائی اسمبلی ،سینیٹ سے استعفی دیا تھا ہمارے لئے سیٹ کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہم مسائل کے حل بلوچستان کے حقوق کا حصول اور لاپتہ افراد کی بازیابی چاہتے ہیں،صوبے میں جس طرح کی صورتحال پید اکی گئی ہے اس میں لوگوں کو لاپتہ کرنے کے علاوہ سنگین صورتحال کا بھی سامنا کرنا پڑرہا ہے ہم نے عمران خان کی حکومت کی حمایت چارٹر آف ڈیمانڈ اور بلوچستان کے حوالے سے چھے نکات سمیت لاپتہ افراد کی بازیابی پر کی تھی اور اس دوران 500 لوگوں کو بازیاب کرایا گیا پھر پی ڈی ایم کی حکومت میں بھی ہم چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد کرانے کی میاں شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان، آصف علی زرداری کی یقین دہانی پر حمایت میں شامل ہوئے تھے اب تو حالات بہت خراب ہوچکے ہیں پہلے مردوں کو اٹھایا جاتا تھا اب خواتین کو بھی گھروں سے اٹھایا جارہا ہے، ایسے واقعات سے ہمیں احتجاج کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز وزیر اعظم سے جب بات کی تو انہوں نے کہا کوئٹہ آکر تمام معاملے کا جائزہ لوں گا، بلوچستان میں ایک وزیر کے گھر میں کچھ بچے قتل اور رہا ہوئے، معلوم نہیں مقدمے میں وزیر کو نامزد ہوا ہے یا نہیں، صوبائی حکومت کو بھی دیکھ رہے ہیں ضرورت پڑی تو حکومت تبدیل کرسکتے ہیں، مرکز کی حکومت تو تبدیل نہیں کرسکتے مگر ساتھ ضرور چھوڑ سکتے ہیں، مطالبات تسلیم نہیں ہوتے تو مرکزی اور صوبائی حکومت کا ساتھ چھوڑ سکتے ہیں۔