ماہل بلوچ کی رہائی کیلئے آج دوسرے روز کوئٹہ کے ریڈ زون میں گورنر ہاؤس کے سامنے لواحقین کی جانب سے احتجاجی دھرنا جاری ہے۔جبکہ دوسری جانب ماہل بلوچ کو آج عدالت میں پیش کیا گیا ہے لیکن شدید تشدد سے وہ ذہنی طور پر انتہائی کمزور دکھائی دے رہی تھی۔
ماہل بلوچ کی فیملی کا کہناتھا کہ ماہل بلوچ کی بازیابی کیلئے بلوچ سیاسی جماعتیں اور خصوصاً بی این پی اپنا کردار ادا کریں، کیوں کہ ہمیں انکی زندگی اور سلامتی کیلئے شدید خدشات لاحق ہیں، انہیں بغیر کسی وکیل کے ریمانڈ پہ لے جایا گیا ہے۔
لواحقین کاکہنا تھا کہ ماہل بلوچ کوجب اسے کمرہ عدالت لایا گیا تو وہ جج کے سامنے بے ہوش ہوکر کرگئی۔
لواحقین نے کہا کہ اگر ماہل بلوچ کی کیس وہ حکومت قانونی طریقے سے دیکھ رہی ہے تو ہم اپیل کرتے ہیں کہ ان پر تشدد نہیں کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر انہیں تشدد مزید تشدد کیا گیا تو ہم احتجاج کا دائرہ وسیع کرینگے۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے آٹھ دنوں کی غیر قانونی حراست اور تشدد سے وہ شدید ذھنی دباؤ کا شکار ہیں۔
ماہل بلوچ کی فیملی نے مزید کہا کہ ہم اپیل کرتے ہیں کہ اس پہ قائم جھوٹے مقدمات کا ایف آئی آر واپس لے کر اسے باعزت بری کیا جائے اور ہمیں اس کرب اور اذیت کی زندگی سے نجات دلائی جائے۔