ماہل بلوچ کی اغوا نما گرفتاری وبارکھان واقعہ کیخلاف پنجگور میں احتجا جی مظاہرہ

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

پنجگور: طلباء کی طرف سے آج 25 فروری کو سانحہ بارکھان اور ماھل بلوچ کی جبری گمشدگی کیخلاف پریس کلب پنجگور سے جاوید چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی جو دھرنے کا شکل اختیار کرگیا ،دھرنے میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنماء طلباء تنظیم ،سول سوسائیٹی سمیت مختلف لوگوں نے خطاب کرتے ہوئے بارکھاں واقع کی شدید مزمت کی، اور مجرم کو کیفر قردار تک پہنچانے کی اپیل کی حکومت سے ۔ماحل بلوچ کی جبری گمشدگی اور جھوٹے مقدمات لگانے پر شرکا نے ریاست کی طرف سے ایسے جھوٹے کیسز لگانا اور پھر عدالتوں میں نہ پیش کرنا آئین اور بلوچ روایات کے خلاف ہے اگر اس نے کچھ کیا ہے تو آپ کے عدالت ہیں وہان اسے پیش کیا جائے ۔ریاست کی طرف سے ایسے عمل مزید بلوچ معاشرے میں آگ لگانے کے برابر ہے اخر میں شرکا نے کہا ماہل سمیت تمام لاپتہ افراد کو منظرعام پر لایا جائے اور لواحقین کو انصاف دلایا جائے ۔

بلوچستان کے علاقے پنجگور میں ماہل بلوچ کی اغوا نما گرفتاری اورسانحہ بارکھان کے خلاف اسٹوڈنٹس سول سوسائٹی کی جانب سے ایک احتجاجی ریلی و مظاہرہ کیا گیا ۔

ریلی ومظاہرے میں بلوچستان نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے رہنما نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی مذہبی جماعت جمعیت علمائے اسلام جماعت اسلامی و سماجی شخصیت کے ساتھ مختلف طبقہ فکر کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔

مظاہرین پریس کلب کے سامنے جمع ہوکر وہاں سے نکل کر مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے خان محمد مری کو انصاف ماہل بلوچ کو بازیاب کر کے نعرے لگاتے ہوئے جاوید چوک پر جمع ہوکر جلسے کی شکل اختیار کرلی ۔

احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں گراں ناز بی بی، ماہل بلوچ و انکے بیٹیوں کی تصاویر انکی بازیابی کے ساتھ سردار عبدالرحمن کھیتران کے ضرب نما تصاویر بھی ہاتھ میں اٹھائے ہوئے تھے ۔

احتجاجی جلسے سے اسٹوڈنٹس فہد آصف آل پارٹیز کے چئیرمن و بی این پی کے مرکزی رہنما میر نزیر احمد جمعیت علمائے اسلام کے امیر حافظ محمد اعظم بلوچ بی این پی عوامی کے رہنما میر کفایت اللہ بلوچ جماعت اسلامی کے ضلعی امیر مفتی صفی اللہ سوشل ورکر عادل ارباب حق دو تحریک کے ملا فرہاد سول سوسائٹی کے صمد صادق نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے شامیر بلوچ نیاز اکبر خلیل نور ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج اگر عدالتیں و انصاف کے ادارے ہوتے تو بلوچستان میں ہر آئے روز ایسے واقعات رونما نہیں ہوتے دیگر مسائل کیلئے عدالتیں سوموٹو ایکشن لیا جاتا ہے لیکن ملک میں بلوچ قوم کی جان و مال عزتِ نفس کیلئے کوئی عدالت کوئی ادارہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ بااثر شخصیت کچھ بھی کریں لوگوں کو قتل کریں یا انکے عزت سے کھیلیں انہیں مکمل آزادی حاصل ہے صرف اداروں میں ایک دو دن میں قانونی شوشہ ہوگی بعد میں سفاک قاتل مجرموں کو باعزت بری کیا جاتاہے جن کی کئی مثالیں موجود ہیں ۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے دلوں میں عدالتوں کے انصاف دینےکا بھروسہ اٹھ چکا ہے کوئٹہ میں سرے عام سب کے سامنے نشے میں مسرور صوبائی رکن اسمبلی اصغر اچکزئی نے ٹریفک سارجنٹ کو کچل دیا کیا ہوا سب کے سامنے ہے انہیں باعزت بھری کیا گیا۔ ملک کا قانوں و آئین کی بوٹ صرف غریبوں کے گردان دبانے کیلئے ہے انہیں انصاف دلانے کیلئے نہیں ہے انصاف کے تقاضے پورے ہوتے تو آج گلی گلی بدامنی نہیں ہوتا انہوں نے کہا ہے آگر یہ واقع افغانستان میں ہوتا آج سردار کھیتران کو سرے عام پھانسی ہوتی لیکن ہم جس جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہیں یہاں جمہوریہ صرف غریب پر ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ روز اول سے اس ملک میں بلوچ قوم کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں جس واقع کو سردار کا نام دیا جارہا ہے دراصل یہ سردار نہیں بلکہ اسکے پیچھے سرکار ہے بلوچستان میں حکومت سرداروں کی ہے اور سردار سرکار کے ہیں اگر صوبائی اسمبلی عوام کی ہوتی ان میں عوامی نمائندے ہوتے تو انہوں نے سردار کھیتران کو کب کا اسمبلی سے نکالتے لیکن افسوس سرکاری صوبائی اسمبلی سرکاری سردار کو قانونی تحفظ دے رہی ہے۔

انہوں نے ماہل بلوچ کی گرفتاری کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماہل بلوچ کسی مسلح تنظیم کسی مسلح جدوجہد کا کارکن نہیں ہے وہ اپنے دو معصوم بچوں کی کفالت کرنے والی ماں ہے انکو انکے دو معصوم بچوں کے سامنے تشدد کرکے گرفتار کرنے کا کیا تاثر جاتا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ملک کے اداروں کو صرف بلوچ قومی کلچر کو تباہ کرنے کیلئے ایسے حربے حیلے استعمال کررہی ہے کہ ماہل بلوچ سے خود کش جیکٹ برآمد ہوئے ہیں ،ماہل بلوچ سے کوئی چیز برآمد نہیں ہوئی سب جھوٹ ہیں ۔

Share This Article
Leave a Comment