بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ کے ریڈ زون میں ماہل بلوچ کی بازیابی کیلئے جاری دھرنے کیخلاف پولیس نے کریک ڈاؤن کیا ۔اور لواحقین کو دھرناختم کرنے کےلئے دباؤ ڈالا۔
لواحقین کی جانب سے دھرنے کیلئے کیمپ لگانے پر پولیس نے مظاہرین پرطاقت کا مطاہرہ کیا۔
ماہل بلوچ کی غیر قانونی حراست کو 8 دن ہوگئے ہیں لیکن اسکی رہائی اب تک ممکن نہیں ہوئی ہے، اسکے لواحقین نے گذشتہ روزجمعہ کو بی ایم سی سے کمشنر ہاؤس اور اسکے بعد شام گئے احتجاجی دھرنے کو ریڈ زون میں گورنر ہاؤس کے سامنے منتقل کر دیا۔
لواحقین نے میڈیا ذرائع سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ماھل بلوچ پہ ناجائز اور جھوٹے مقدمات لگا کر اسے پچھلے 8 دنوں سے سی ٹی ڈی نے اپنے غیر قانونی حراست میں رکھا ہے، ہمارے دھرنے کا بس ایک ہی مطالبہ ہے کہ کہ اس پہ جھوٹے مقدمات ختم کرکے اسے رہا جائے، اسکی رہائی تک ہمارا احتجاجی دھرنا ریڈ زون میں گورنر ہاؤس کے سامنے جاری رہے گا۔
انہوں نے کوئٹہ کے انسان دوست اور بلوچ عوام سے اپیل کی کہ وہ اس پر امن اور آئینی احتجاج میں ان کا ساتھ دیں تاکہ ہم ماھل بلوچ کو فورسز کی غیر قانونی حراست سے رہا کرا سکیں ۔
واضح رہے کہ ماھل بلوچ کی غیر قانونی حراست اور گمشدگی کے اگلے دن بلوچ وومن فورم کی کال پر انکے لواحقین اور دیگر لوگوں نے مل کر کسٹم گائی خان چوک پہ دھرنا بھی دیا تھا جہاں انتظامیہ کی 48 گھنٹوں کی مہلت دینے پر انہوں نے اپنا احتجاج ختم کیا تھا لیکن آج 8 دن گزرنے کے بعد بھی اسے منظر عام پر نہیں لایا گیا ہے۔