ماہل بلوچ کی اغوانماگرفتاری کیخلاف کوئٹہ میں ریلی و دھرنا

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

ماہل بلوچ کی پاکستانی فورسز کے ہاتھوں اغوانماگرفتاری کیخلاف کوئٹہ میں ریلی نکالی گئی ۔

ریلی بولان میڈیکل کالج سے نکالی گئی۔

ریلی میں لاپتہ ماہل بلوچ کی اہلخانہ، طلباء تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے کارکنان و شہریوں کی بڑی تعداد شریک تھیں۔

مظاہرین نے کہا کہ ماہل بلوچ کو فوری منظر عام پر لاکر رہا کیا جائے اور بلوچستان میں بلوچ خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ انکے جبری گمشدہ افراد کو بھی منظر عام پر لایا جائے۔

ریلی کے شرکاء بعدازاں کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ سیکٹریٹ کے دھرنے میں شریک ہوئے۔

دھرنے کے شرکاء کا کہنا ہے سی ٹی ڈی کے ہاتھوں لاپتہ بلوچ بیٹی ماہل کی رہائی اور دیگر قتل کیے گئے لوگوں کی شناخت تک دھرنا جاری رہے گئی۔

دھرنے کے شرکاءنے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بارکھان واقعے کے متاثرین کو انصاف کی فراہمی اور ماحل بلوچ کی بازیابی تک دھرنا جاری رہے گا۔

اس موقع پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ جب تک ماہل بلوچ اور دیگر لاپتہ کی بازیابی تک ہمارا دھرنا جاری رہے گا، کارکنوں اور طلبہ کی بڑی تعداد گورنر ہاؤس اور ریڈ زون کے اطراف میں موجود ہے۔

انتظامیہ کی طرف سے اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ مذاکرات کیلئے مظاہرین کے پاس پہنچے تو انہوں نے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ آپ کے پاس اختیار نہیں۔ کسی بھی ناخوشگوار حالات سے نمٹنے کیلئے دھرنے کے اردگرد پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment