بلوچ خواتین کی بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیوں سے سرکار کو الرجی ہوگئی ہے۔ جس کے روک تھام کے لئے وہ چادر و چاردیواری کو پامال کررہی ہے۔ گزشتہ روز کوئٹہ کے علاقے سیٹلائیٹ ٹاؤن سے ماہل بلوچ نامی بلوچ خاتون کی اغوا نما گرفتاری اور ان کو خودکش قراردے کر یہ ثابت کیا ہے کہ بلوچ تحریک میں بلوچ خواتین کی بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیوں سے سرکار کتنے خوف زدہ ہوگئی ہے۔
ایسے ہتھکنڈے بلوچ خواتین کو بلوچ تحریک سے دور رکھنے کے لئے ایک قدم ہے۔ تاکہ خواتین خوفزدہ ہوکر سیاسی طور پر متحرک اور سرگرم نہ ہوسکیں۔ لیکن یہ ان کی بھول ہے کہ ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے بلوچ عورتیں مزید متحریک اور سرگرم ہوں گیں۔ کیونکہ بلوچ عورتوں کا سرگرم ہونا دراصل ریاست کی غلط پالیسیوں سے منسلک ہے۔ 2000 کے بعد بلوچستان میں چلنے والی تحریک میں خواتین اور طالبات نے حصہ لینا شروع کر دیا۔ بلوچ سیاست میں خواتین اور طالبات کی بھر پور شرکت اتنی زیادہ کیوں سامنے آئی ۔یہ ایک غور طلب بات ہے۔ آج بلوچ معاشرے میں بلوچ خواتین سیاسی، سماجی اور معاشرتی امور میں مردوں کے شانہ بشانہ سرگرم ہیں۔ وہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ متحرک ہوگئی ہیں۔ موجودہ بلوچ سماج میں سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں اور ان کی ملنے والی مسخ شدہ لاشیں ہیں۔ ہر دوسرے گھر میں ایک لاپتہ سیاسی کارکن ملے گا اور ہر دسویں گھر میں ایک مسخ شدہ لاش ملے گی۔ ہزاروں کی تعداد میں سیاسی کارکن روپوش ہیں۔ ان کے وارنٹ گرفتاریاں جاری ہوچکی ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر معاشرے میں سیاسی سرگرمیاں مردوں کی جگہ خواتین اور طالبات میں منتقل ہوگئیں اور سیاسی سرگرمیوں میں خواتین اور طالبات نےمردوں کی جگہ لے لی۔
ماہل بلوچ کا تعلق مکران کے علاقے گومازی سے ہے۔ وہ ہیومن رائٹس کونسل، بلوچستان کے چیئرپرسن محترمہ بی بی گل بلوچ کی بھابھی ہے۔ ان کے شوہرکو موت کے گھاٹ اتاردیاگیا۔ جبکہ ان کے گھر اور دیگر املاک کو آگ لگادی گئی۔ جس کی وجہ سے ماہل بلوچ اپنی جان بچاکر کوئٹہ منتقل ہوگئی جہاں وہ تنگ دستی کی زندگی گزاررہی تھی۔ اس تنگ دستی کے باوجود وہ اپنی دو بچیوں کو پڑھا رہی تھی۔ سی ٹی ڈی نے ڈرامائی انداز انہیں اغوا نما گرفتار کیا اور ان پر جھوٹے الزامات لگاکر انہیں خودکش قراردے دیا۔ سی ٹی ڈی کا دعویٰ جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی ہے۔ اس نوعیت کا یہ پہلا ڈرامہ نہیں ہے اس سے قبل ماضی میں بھی بلوچ خواتین کو خودکش قراردیا گیا تھا۔ بعد میں وہ الزام جھوٹے ثابت ہوگئے۔ اپریل 2022 کو ضلع کیچ کے علاقے ہوشاپ میں سی ٹی ڈی نے ایک گھر پر چھاپہ مارکر نورجہاں زوجہ فضل نامی خاتون کوگرفتار کیا تھا۔ سی ٹی ڈی کے حکام نے جھوٹا دعویٰ کرکے خاتون کو خودکش بمبارقرار دیا تھا۔ سی ٹی ڈی حکام نے ان کے قبضے سے دھماکا خیز مواد ڈیٹونیٹر برآمد کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔ سخت عوامی ردعمل سےگھبراکر سی ٹی ڈی حکام نے ہوشاپ سے جبری طور پر لاپتہ کی گئی خاتون نورجہاں کو تربت میں انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش کردیا۔ جہاں خاتون نے اپنے اوپرلگائے گئے تمام الزامات مسترد کردیئے۔ تاہم 23 اپریل کو انسداد دہشت گردی عدالت نے نورجہاں کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔
بلوچ عورتوں کو اغوا کرنا سرکار کی طاقت کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔ جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوگا کہ سرکار کتنی کمزور ہوگئی ہے۔ وہ بلوچ عورتوں کو اغوا کررہی ہے۔ ماضی میں ایسے بےشمارواقعات رونما ہوئے ہیں۔
ضلع کیچ کے علاقے تربت چونگی سے فورسز نے خواتین و بچوں سمیت سات افراد کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔ لاپتہ ہونے والوں میں چار سالہ بچہ ریحان، سورت بنت لال بخش، فاطمہ بنت لال بخش اور چھ ماہ کی بچی نوری بنت غفور، امینہ بنت حمزہ عتیقہ بنت رشید اور دیگر شامل تھیں۔ اسی طرح ضلع پنجگور کے علاقے کرک ءِ ڈل، گچک سے خواتین اور بچوں کو لاپتہ کردیا گیا۔ جن میں شاہ بی بی بنت سھراب، شہزادی بنت عبدالرحمان اور عبدالرحمان سمیت ان کے دیگر اہل خانہ شامل تھیں۔
19 اپریل 2022 کو بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے نظرآباد سے تعلق رکھنے والی بلوچ خاتون آرٹسٹ اور شاعرہ حبیبہ پیر محمد کو کراچی میں گھر سے اٹھایاگیا۔ وہ بلوچی زبان کے شاعر علی جان قومی کی بھانجی ہیں۔ حبیبہ پیر محمد گزشتہ دس سالوں سے کراچی کے علاقے گلشن مزدور نیول میں اپنے بچوں کو پڑھا رہی ہیں۔ وہ ایک کرایہ کے گھر میں رہتی ہیں۔ گزر بسر کرنے کے لئے وہ بلوچی کڑھائی اور سلائی کا کام کرتی ہیں۔ وہ انتہائی مالی تنگ دستی کی صورتحال کے باوجود اپنے بچوں کو تعلیم دے رہی ہیں۔ تین روز قید و بند کے بعد انہیں چھوڑدیاگیا۔بلوچ خواتین کا اغوا نماگرفتاری پر بلوچ پارلیمانی جماعتوں کی خاموشی معنی خیز ہیں۔ اقتدار حاصل کرنے والی سیاسی جماعتیں جب اپوزیشن میں ہوتی ہیں تو وہ جبری گمشدگی اور مسخ شدہ لاشوں کو بطور سیاسی کارڈ استعمال کرتی ہیں اور جب اقتدار میں آتی ہیں تو یک دم ان کا موقف بھی تبدیل ہوجاتا ہے۔ ان کے منہ پر تالے لگ جاتے ہیں۔ کیونکہ انہیں لاپتہ افراد کی جگہ وزارتیں پیاری ہوتی ہیں۔
سیاسی ورکرز بیس بیس سال سے جبری گمشدگی کے شکار ہیں اور ان کے اہلخانہ کو اس حوالے سے کچھ بھی نہیں بتایا جاتا ۔ لاپتہ افراد کے لواحقین ان کی واپسی کے راستے دیکھتے رہتے ہیں۔ وہ ذہنی کرب و اذیت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
بلوچ سیاسی کارکنوں اور طالب علموں کو اٹھانا عام سی بات ہوگئی ہے۔ اگر ایک کو چھوڑدیا جاتا ہے تو اس کے بدلے میں دس کو لاپتہ کردیا جاتا ہے۔ عمران خان کی حکومت ہو یا شہباز شریف کی بلوچ کے لئے کوئی ریلیف پیکج مرتب نہیں کیا جاتا ہے۔ سب بے بس نظر آتے ہیں۔ وہ صرف اپنے اقتدار کو بچانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔
بلوچستان کے لاپتہ افراد کی بازیابی میں وزیراعظم شہباز شریف کوئٹہ کی ایک تقریب میں لاپتہ افراد کی تلاش کے حوالے سے بے بسی کا اظہار بھی کر چکے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وہ لاپتہ افراد کا معاملہ "بااختیار لوگوں” کے سامنے رکھیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ ایک بے اختیار وزیراعظم ہے۔ اس وقت ملک میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حکومت قائم ہے۔ ان کی اتحادی جماعتیں بلوچستان نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی بھی صرف اقتدار کے حصول کے لئے جدوجہد کررہی ہیں۔ اختر مینگل کو وزارتیں چھوڑنا چاہیے جبکہ ڈاکٹر مالک بلوچ کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حکومت کو خداحافظ کرنا چاہیے مگر یہ دونوں ایسا ہرگز نہیں کرینگے۔ کیونکہ دونوں کو اقتدار عزیز ہے۔ اور وہ اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ نیشنل پارٹی کے سینیٹرز سینیٹ میں حکومتی بینچوں پر بیٹھ کر موج کررہے ہیں۔ ان دونوں بلوچ پارلیمانی جماعتوں کی قیادت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ بلوچ عوام کے مینڈیٹ کا سودا کریں۔ انہیں مینڈیٹ عیاشیوں اور موج مستی کے لئے نہیں ملاہے۔ ان کو ایک فیصلہ کرنا پڑے گا یا وہ اقتدار چھوڑ دیں یا وہ عوام کے درمیان رہیں۔ ورنہ ان کا گھیراؤ کرنا بلوچ عوام بخوبی جانتی ہے۔ ان کا ایسا گھیراؤ ہوگا کہ انہیں نکلنے کا راستہ بھی نہیں ملے گا۔
***