بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر داخلہ ضیالانگو نے کہا ہے کہ بلوچستان کے لوگوں کو امن و امان فراہم کرنا حکومت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
اپنے ایک بیان میں ضیالانگو نے کہا کہ کچھ دنوں سے بہت زیادہ تھریٹس تھیں، جن میں خودکش بمبار آنے کی اطلاعات بھی تھیں، خودکش بمبار میں خواتین خودکش حملہ آور کی بھی اطلاع تھی، جو کسی بھی جگہ حملہ کر سکتی تھی، اداروں کا کہنا تھا کہ وہ تمام صلاحیتیں بروئے کار لا کر تخریب کاری کے منصوبے کو ناکام بنائیں گے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ کراچی میں شاری بلوچ نے خودکش حملہ کیا جس کے پیچھے بہت سے لوگ کھڑے ہو گئے، کسی کی ماں بہن کو گرفتارکرنا ہمیں اچھا نہیں لگتا مگر جو قانون توڑے گا تو اس کیخلاف ایکشن ہوگا۔ کالعدم تنظیمیں بھی خواتین کو تخریب کاری کیلئے استعمال نہ کریں، مبینہ خودکش بمبار گرفتار ہونے والی خاتون کو عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں وہ اپنی صفائی پیش کرے۔
ضیالانگو نے مزید کہا کہ جو خودکش حملہ کرے گا اس کیخلاف کارروائی ہوگی، ملزمہ کو تمام قانونی سہولت فراہم کریں گے، سب کو انصاف کے دائرے میں لایا جائے گا۔
واضع رہے کہ گذشتہ دنوں پاکستانی سیکورٹی فورسز و خفیہ اداروں نے کوئٹہ میں ماہل بلوچ نامی ایک عورت کو دو بچوں سمیت گھر میں گھس کر شدید تشدد کا نشانہ بناکر لاپتہ کیا تھا۔اور دوسرے دن سی ٹی ڈی نے ان کی گرفتاری ظاہر اور دعویٰ کیا کہ ایک کارروائی میں ایک خودکش بمبارعورت کو گرفتار کیا گیا ہےجس کے قبضے سے جیکٹ اور دیگردھماکا خیز مواد برآمد ہوا ہے ۔
ماہل بلوچ کی ساس کا کہنا ہے کہ فورسز نے ماہل کو گھر میں تشدد کا نشانہ بناکر یہ کہلوانے کی کوشش کی کہ وہ مان لیں کہ وہ ایک خودکش بمبار ہے اور اس کے قبضے سے جیکٹ ودیگر دھماکاخیز مواد برآمد ہوا ہے ۔
ماہل بلوچ کی اغوا نماگرفتاری کیخلاف کوئٹہ ، تربت ،کراچی میں احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں جبکہ کوئٹہ میں گذشتہ روز روڈ بلاک دھرنا دیا گیا اور سرکاری نمائندوں سے مزاکرات اور ماہل بلوچ کی رہائی کی یقین دہانی کے دھرنے کو48گھنٹے کیلئے موخر کردیا گیا ہے ۔