بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں عدالت نے حق دوتحریک کے سربراہ مولانا ھدایت الرحمن کو 15 مقدمات میں ضمانت پر رہائی کا حکم دے دیا ہے تاہم عدالت نے قتل کے مقدمہ میں مولانا ہدایت الرحمن کی ضمانت پر رہائی کی استدعا مسترد کردی ہے۔
یاد رہے کہ مولانا ھدایت الرحمن پر ضلع گوادر کے مختلف تھانوں میں 16 مقدمات قائم کئے گئے تھے جس میں مظاہروں کے دوران مبینہ طور پر پولیس اہلکار کو گولی سے قتل کرنے کا مقدمہ بھی شامل ہے۔ 15 مقدمات میں ضمانت منظور ہونے کے باوجود مولانا ھدایت الرحمن کی جوڈیشل حوالات گوادر سے رہائی ممکن نہ ہوسکی۔ حق دو تحریک نے مولانا ھدایت الرحمن کی قتل کے مقدمہ میں ضمانت خارج ہونے پر سیشن کورٹ گوادر کا فیصلہ ھائی کورٹ بلوچستان میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم حکام نے جوڈیشل حوالات میں قید مولانا ھدایت الرحمن کے ملاقات پر بھی پابندی عائد کردی ہے جس پر حق دوتحریک نے اسے انتقامی کاروائی اور ماورائے قانون قرار دیکر سخت مذمت کی ہے۔