پاکستان کے سینیٹ اجلاس میں توجہ دلاؤ نوٹس سیشن کے دوران سینیٹر دنیش کمارنے کہاکہ این 25 نہیں خونی شاہراہ ہے،بلوچستان میں تخریب کاری سے اتنے لوگ ہلاک نہیں ہوئے جتنے اس شاہراہ پر حادثات سے ہوئے ہیں۔
دنیش کمار نے کہاکہ ہماری بات سننے کیلئے وزیر مواصلات نے ایوان میں آنے تک گوارا نہیں کیا،اس شاہراہ کی ڈیوائلائزیشن کا کام افتتاح سے آگے نہیں بڑھا۔
انہوں نے کہاکہ پورے پاکستان میں موٹروے کا جال بچھایا گیا مگر بلوچستان کیلئے ایک شاہراہ تک نہیں بنایاگیا۔
دنیش کمار نے کہاکہ 95فیصد ڈارئیور اس شاہراہ پر چرس پی کر گاڑی چلاتے ہیں مگر روکنے والا کوئی نہیں۔
دنیش کمار نے کہاکہ بیلا میں 41 لوگوں کی مسخ شدہ لاشیں دیکھیں،اس کو دیکھ کر دل خون کے آنسو وتا ہے۔
دنیش کمار نے کہاکہ سینیٹر مشاہد حسین آپ اس شاہراہ کیلئے علم بغاوت بلند کریں۔
انہوں نے کہاکہ اگر حکومتی یہ تعمیر نہیں کرتی تو آپ پارٹی سے مستعفی ہو جائیں اور میں بھی مستعفی ہوجاؤں گا۔
توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے قانون وانصاف شہادت اعوان نے بتایاکہ گیارہ اپریل کووزیراعظم شہباز شریف نے حلف اٹھایا اور 23اپریل کواس شاہراہ کا افتتاح کیا،این 25 پر یقینا ہیوی ٹریفک ہوتی ہیں،ایک انسان کی جان جانا افسوسناک ہے،این ایچ اے نے اس شاہراہ پر سات چوکیاں قائم کیں۔ انہوں نے کہاکہ خضدار تا کچلاک پر کام نومبر میں شروع ہو چکا ہے۔