سبی کے علاقے تلی میں تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنی کے اہلکاروں کو بم حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
کمپنی اہلکاروں کو کلگری میں سرمند نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں انہیں جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے تاہم ضلعی حکام کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔
رواں مہینے تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں پر تین حملے کیئے جاچکے ہیں۔
اس سے قبل رواں مہینے ضلع لسبیلہ اور ضلع خضدار کے درمیان کرومائیٹ لے جانے والی ٹرکوں پر حملے کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی تھی۔
گذشتہ مہینے بھی کاہان کے علاقے کلگری میں تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنی کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کی ذمہ بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔
بلوچستان میں گیس و تیل تلاش کرنے والی کمپنیوں سمیت دیگر تعمیراتی کمپنیوں پر حملوں کا سلسلہ گذشتہ دو دہائی سے جاری ہے، 2006 میں نواب اکبر خان بگٹی کے شہادت کے بعد ڈیرہ بگٹی و دیگر اضلاع میں گیس، تیل اور دیگر تنصیبات پر حملوں میں شدت دیکھنے میں آئی تھی۔
سی پیک کو بلوچ سیاسی و عسکری حلقوں کی جانب سے استحصالی منصوبہ قرار دیا جاچکا ہے جس کے ردعمل میں سیاسی حلقوں کی جانب سے اندرون و بیرون ملک مختلف فورمز پر احتجاج کرنے سمیت بلوچ سرمچاروں کی جانب سے سی پیک و دیگر تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔