امریکہ میں کورونا وائرس کے حوالے سے یومیہ بریفنگ کے دوران وائٹ ہاو¿س میں ایک کنزرویٹو صحافی نے سوال کیا کہ سابق صدر اوباما کی انتظامیہ نے چین کے ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی کو 37 لاکھ ڈالر کی امداد کیوں کی تھی۔ یہ وہی ادارہ ہے جس کے بارے میں نامعلوم امریکی اہلکاروں نے کہا ہے کہ وہاں سے کورونا وائرس لیک ہوا۔
اس پر امریکی صدر ٹرمپ کا جواب تھا ’ہم بہت جلد وہ امداد ختم کر دیں گے۔ میں حیران ہوں کہ اس وقت صدر کون تھا؟‘ یہ گرانٹ سنہ 2015 میں ادا کی گئی۔
واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا تھا کہ چین میں سفارتکار متفکر ہیں اور وہ ووہان لیبارٹری میں حفاظتی اقدامات سے مطمئین نہیں اور انھوں نے مدد طلب کی ہے۔
فرانس کے صدر نے جمعے کو کہا کہ اس حوالے سے کوئی شواہد نہیں کہ کورونا وائرس ووہان لیب میں بنایا گیا۔
امریکی صدر کو دنیا بھی میں کورونا وائرس کے حوالے سے سب سے زیادہ ہلاکتیں امریکہ میں ہونے سے متعلق بھی اختلافات ہیں۔
ان کا کہنا تھا ’ہمارے ہاں دنیا میں سب سے زیادہ ہلاکتیں نہیں ہوئیں۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں چین میں ہوئی ہوں گی۔‘
جان ہاپکنز یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کے معاملے میں اس وقت امریکہ سر فہرست ہے۔
تاہم جمعے کو چین نے کہا اس کے ہلاکتوں کو دوبارہ شمار کیا ہے اور گنتی کے مختلف طریقہ کار کے بعد اب وہاں اب تک 4000 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔