امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کر دی گئی ہے۔
ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت اوول آفس میں اسرائیلی اور لبنانی حکام کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے۔
اس ملاقات میں نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو بھی شریک تھے۔ اپنے اعلان میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ ملاقات ’انتہائی کامیاب‘ رہی۔
انھوں نے لکھا ’امریکہ لبنان کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ اسے حزب اللہ سے تحفظ حاصل کرنے میں مدد دی جائے۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ اس ’نہایت تاریخی ملاقات‘ میں شریک ہونا ان کے لیے ’بڑے اعزاز‘ کی بات ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ مستقبل میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون کی میزبانی کے منتظر ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جنگ کی مدت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے ایرانی نظام اور اب تک کے تنازع سے متعلق اپنے پہلے سے دہرائے جانے والے نکات ہی دوبارہ بیان کیے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انھیں ایران کے ساتھ معاہدے کی ’کوئی جلدی نہیں‘ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے 75 فیصد اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے تاہم جنگ بندی کی وجہ سے کارروائی روک دی گئی ہے۔ ان کے مطابق ایرانی بندرگاہوں کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی 100 فیصد موثر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جنگ بندی میں توسیع کے ذریعے امریکہ ایران کو اس کے اندرونی ’انتشار‘ کو سلجھانے کے لیے اضافی وقت دے رہا ہے۔ ان کے مطابق وہ تنازعے کے خاتمے کے لیے کسی دباؤ میں نہیں اور ایران کے ساتھ ’بہترین معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو امریکہ کنٹرول کرتا ہے اور جب ایران معاہدہ کرے گا تو یہ اہم تجارتی گزرگاہ کھول دی جائے گی۔ صدر نے مزید کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ جنگ بندی کے دوران ایران تیل کی فروخت سے سینکڑوں ملین ڈالر کمائے۔
ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکی شہریوں کے لیے پیٹرول کی قیمت بڑھے گی۔
صدر نے اس سوال کا براہِ راست جواب نہیں دیا اور کہا ’اور آپ جانتے ہیں کہ بدلے میں انھیں کیا ملتا ہے؟ آپ جانتے ہیں کہ انھیں اس کے بدلے کیا ملتا ہے؟ ایک ایسا ایران جس کے پاس جوہری ہتھیار نہیں اور جو ہمارے کسی شہر کو یا پورے مشرقِ وسطیٰ کو اڑانے کی کوشش نہ کرے۔‘
اس کے بعد انھوں نے گفتگو کا رُخ سٹاک مارکیٹ کی طرف موڑ دیا اور پھر دوبارہ تیل کی قیمتوں پر آ گئے۔
ان کا کہنا تھا ’میں نے سوچا تھا کہ تیل شاید 200 ڈالر فی بیرل تک چلا جائے گا اور تیل کی قیمت کسی بھی اندازے سے بالکل مختلف رہی ہے۔ درحقیقت اس ملک میں قیمتیں کہیں کم ہیں کیونکہ ہمارے پاس ضرورت سے کہیں زیادہ تیل موجود ہے۔‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اب دنیا بھر سے جہاز تیل حاصل کرنے کے لیے امریکہ آ رہے ہیں۔