امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کے مطابق یہ فیصلہ ایران کی داخلی صورتحال اور علاقائی رہنماؤں کی درخواستوں کے بعد کیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کی حکومت اس وقت "شدید اندرونی تقسیم” کا شکار ہے، جو ان کے بقول غیر متوقع نہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی امریکہ سے درخواست کی ہے کہ ایران پر حملے اس وقت تک مؤخر کیے جائیں جب تک تہران کی قیادت ایک "متحدہ تجویز” پیش نہ کر دے۔
امریکی صدر کے مطابق انہوں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور تمام عسکری شعبے مکمل تیاری کی حالت میں رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران اپنی تجویز پیش نہیں کرتا اور مذاکرات کسی نتیجے تک نہیں پہنچتے، "چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہوں۔”
ٹرمپ نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب اعلان کیا کہ وہ ایران کو مزید وقت دے رہے ہیں اور اس ڈیڈ لائن کو مؤخر کر رہے ہیں جو انہوں نے تہران کو معاہدہ کرنے کے لیے دی تھی۔ بصورت دیگر بدھ کے روز جنگ دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔
جنگ بندی میں اس توسیع کے نتیجے میں امریکہ نے فی الحال ایران کے خلاف شدید فضائی حملے دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ مؤخر کر دیا ہے، تاہم اس سے یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ آنے والے دنوں یا ہفتوں میں ٹرمپ کو ایک بار پھر اسی فیصلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی صدر نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ نئی جنگ بندی کتنی مدت کے لیے ہوگی۔ انہوں نے صرف یہ کہا کہ ایران کو مزید وقت دیا جا رہا ہے تاکہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک "متحدہ تجویز” پیش کر سکے۔
یہ دو ہفتوں میں دوسری مرتبہ ہے کہ ٹرمپ نے جنگ میں اضافے کی اپنی دھمکیوں سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس تنازع کو ختم کرنے کے لیے کسی قابلِ قبول حل کے منتظر ہیں۔