بلوچستان کے علاقے خاران میں پاکستانی فوج کی جانب سے زبردستی شہریوں کے موبائل فونز چھیننے اوران کاڈیٹاحاصل کرنیکا انکشاف ہوا ہے۔
سنگر کو ملنے والی خبر کے مطابق خاران میں گزشتہ کہیں دنوں سے پاکستانی فوج کی جانب سے شہر کے مختلف مقامات، گلیوں اور چوراہوں پر شہریوں کو اچانک روک کر ان کی تلاشی لی جاتی ہے اور اس دوران ان کے ذاتی اور قیمتی موبائل فونز چھین کر اپنے ساتھ لے جایا جاتا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق فورسز نے شہر کے متعدد مقامات پر گشت کے دوران اچانک دکانوں کے سامنے گاڑی روک کر دکان کے اندر موجود شہریوں کے موبائل فونز چھین لیے اور اپنے ساتھ کیمپ لے گئے۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ خاران کے جوژان اور کلان کے مقام پر فورسز نے متعدد شہریوں سے موبائل فونز چھین لیے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ کئی لوگوں سے زبردستی موبائل چھیننے کے بعد فورسز کی جانب سے انہیں فون کرکے کیمپ بلایا گیا اور پرسنل ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بعد موبائل واپس کیے گئے۔
فونز چھیننے اور واپس کرنے کے بعدمقامی لوگ اس خدشے کا ظہارکررہے ہیں کہ ممکن ہے ان کے ان ڈیوائسز میں وائرس نما جاسوسی کے سافٹ ویئر انسٹال کی جاچکی ہیں۔
دوسری جانب فورسز کی جانب سے چند لوگوں کو ذاتی ڈیٹا کی بنیاد پر بلیک میل کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔جبکہ اس کے برعکس متعدد قیمتی موبائلوں کی فورسز کے ہاتھوں چوری کے بعد واپسی نہیں ہوسکی۔
واضح رہے کہ خاران میں گزشتہ سال کے آخری حصے میں بلوچ مسلح تنظیم بی ایل اے کی جانب سے متعدد اہم حملے ہوئے۔اور اس کے بعد رواں ماہ علاقہ بھر میں بلوچ عوام کی جانب سے بلوچستان کی آزادی اور بی ایل اے کے حق کے میں وال چاکنگ کا سلسلہ شروع کیا گیا جس کی وجہ سے پاکستانی فوج سخت بھوکلاہٹ اور تذبذب کا شکار نظر آرہی ہے۔