کراچی: بلوچ لاپتہ افراد کا احتجاجی کیمپ 4931 دنوں سے جاری

0
41

پاکستان کے صوبہ سندھ کے مرکزی شہر کراچی میں بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہداء کے لواحقین کااحتجاجی کیمپ جاری ہے جسے 4931 دن ہو گئے ہیں۔

اظہار یکجہتی کرنے والوں میں ایچ آر سی پی کے سینئر کونسل ممبر سعید بلوچ، بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کے ڈپٹی آرگنائزر عبدالوہاب بلوچ، ویمن آرگنائزیشن کے کامریڈ مہناز رحمان، اور دیگر شامل تھے۔

جبکہ کراچی سے جبری لاپتہ عبدالحمید زھری کی بیوی فاطمہ بھی بچوں کے ساتھ احتجاجی کیمپ میں بیٹھے رہے اور لاپتہ عبدالحمید زھری کی تصویر اٹھائے انکی بازیابی کی اپیل کی۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا ہے ہزاروں مثالیں ملتے ہیں بلوچ نوجوانوں نے اپنے روزگار اور آسائش کی خاطر نہیں بلکہ ساحل اور وسائل خاطر اپنے سروں پر کفن باندھ کر قابض کے خلاف برسرپیکار ہیں، اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں، سامراجی قوت یہ بھول گئی ہے کہ روز نوجوانوں کی لاشیں بیگوروکفن کبھی پہاڑوں، کبھی ویرانوں میں مل رہے ہیں، کیا ان شہیدوں کے ماؤں کو چند سکًوں کے عوض انہیں اپنا لال واپس دلا سکتے ہیں ان بوڑھے ماؤں، باپوں کو اس وقت سکون اور چھین ملے گا جب اس دھرتی پر انسانیت کی قدر ہو، یہاں برابری ہو، رشوت، حرام خوری نہ ہو تب وہ چین سکون محسوس کرینگے۔

ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا کہ زندانوں میں ہزاروں بلوچ نوجوان اس ناکام و غیرفطری ریاست کی ٹاچرز کو برداشت کر رہے ہیں اگر ٹارچر سیلوں میں اذیت برداشت کرنے والے نوجوان مراعات قبول کرتے تو آج ان کے ماؤں، بہنوں، بھائیوں، اور باپوں کو کبھی کوئٹہ، کراچی اور کبھی اسلام آباد کے پریس کلبوں کے سامنے اپنے پیاروں کی تصویریں اٹھا کر بھوک ہڑتالی کیمپوں میں احتجاج اور مظاہرے نہیں کرنے پڑتے، پچھلے 75 برسوں میں اس ملک کے حکمران جو خود کو جمہوری کہتے چلے آ رہے ہیں بلوچستان میں بلوچ نسل کشی، اغواء نما گرفتاری سمیت تمام غیر جمہوری، غیر فطری ہتھکنڈے استعمال کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں ایک دفعہ پھر بوری بند لاشیں پھینکنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، گزشتہ دنوں دو بوری بند لاشیں کراچی کے مختلف علاقوں سے برآمد ہوئی ہیں، جن میں سے ایک کی شناخت ہو گئی تھی، جبکہ سندھی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ وہ سندھی ایکٹیوسٹ ہیں جنہیں ریاستی فورسز نے قتل کیا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی فورسسز کے ذریعہ بلوچ عوام پر بمباری کرنا اور خوف و ہراساں کرنا ان کا شیوہ ہے لیکن بلوچ قوم پر امن جدوجہد اور بلوچ عوام کی حمایت نے بلوچستان میں نام نہاد قوم پرستوں کا کردار واضح کر دیا ہے دوسری طرف بلوچ عوام پر ظلم کرنے اور دوسری طرف عالمی دنیا پر بلوچستان میں بلوچ نسل کشی اور دہشتگردی کو عیاں کر دیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here