پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارلحکومت کراچی میں بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہداء کے لواحقین کی بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جسے آج 4928 دن پورے ہوگئے ہیں۔
بی ایس او کے مرکزی عہدیداران جیئند بلوچ، حسیب بلوچ اورجاوید بلوچ نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔جبکہ کراچی سے جبری لاپتہ عبدالحمید زھری کے فیملی احتجاجی کیمپ میں موجود رہے۔
وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا پاکستان کی ظلم جبر کے سیاہ طویل راتوں کی تاریخ ان گنت مصلوم نا مصلوم وحشت ناک مظالم کی کہانیوں سے لکھی ہوئی ہے جہاں نوجوانوں کی لہو کی چھینٹیں کبھی ریاستی عقوبت خانوں تاریخ کوٹھریوں کی بے رحم دیواروں پر تو کبھی گل زمین کی خاک پر نقش ہیں ایسی کئی تاریخ راتیں ہمارے حصے میں پڑی ہیں جہاں نوجوانوں کی پیشانیوں کو بنا کسی شکن کے پاکستانی ریاست کی ننگی گولیوں کا سامنا رہا تو کبھی انہی تاریکیوں کی آڑ میں نوجوانوں کی لاشوں کو ویرانوں میں پھینک دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ زیرو پوانٹ کی سڑکوں سے لیکر بلوچستان کے تمام گلی کوچے ان تاریک راہوں مارے گئے معصوم اس لئے کہ ان کا جرم ہی اتنا معصوم اور سیدھا۔ سادہ تھا کہ وہ قومی بقا کے شمع پر جلنے والے پروانے تھے اور گناہگار اس لئے کہ وہ سر کش تھے جو تاریکیوں میں جھکے نہیں جو سودا گر نہیں سچے عاشق تھے دنیا کی تاریک میں امر ہونے والے ان تمام ہیروز کی طرح وہ بھی انسانیت کے لئے مقدس اور پرامن جدوجہد کے حقیقی ہیرو ہیں جو صدیوں سے چل رہی تسلسل کی کڑیوں کو جوڑنے اور اور تھامے ہوئے اگے ہی اگے بڑھے چلے آرہے ہیں جوا وہ رانگ نسل میں ایک دوسرے سے مختلف جنہوں نے زندگیاں گنوائیں مگر یقین اور عزم نہیں گنوایا ہمارے ہی سرزمین کے بطن سے پھوٹے ہوئے کہیں جوان پھول ایسے بھی جن کے نام اور چہرے ہم میں سے کسی نے سنے اور دیکھے نہیں لیکن انکا مقصد ایمان اور پرامن جدو جہد اسی درتی ماہ ننگ ناموس کی حفاظت تھا جو خود گمنامی کی زندگی جیسے جنہوں نے گمنامی کی موت کو خندہ پیشانی سے قبول کیا مگر دنیا کی تاریخ میں اپنے قوم اور زمین کو گمنامی کی موت مرنے نہیں دیا آج انکی خاکی جسمیں کہاں اور کس مقام پر دفن ہیں یہ ہم میں سے کسی کو علم نہیں مگر ان کی روحیں آج بھی ہمارے آس پاس سانس لے رہی ہیں۔