بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی وائس چئیرپرسن مروارد بلوچ نےبلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے فوجی آپریشنز اور ماورائے عدالت گرفتاری پہ تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج عالمی دنیا ایک خطرناک اور جان لیوا بیماری کا شکار ہے جس سے تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ افراد اس موذی مرض سے ہلاک ہوئے جبکہ پوری دنیا کی معشیت سمیت سیاست پہ گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے۔
آج پوری دنیا اپنے عوام کے جان کی تحفظ کے لئے بھرپور اقدامات اٹھارہی ہیں تاکہ عوام کو محفوظ رکھ کر کاروبار زندگی کو دوبارہ بحال کیا جاسکے۔لیکن بلوچستان میں ریاستی ادارے اس خطرناک وبائی بیماری کے دنوں میں بھی عوامی تحفظ کے لئے اقدامات کرنے کے بجائے فوجی آپریشنز اور ماورائے عدالت گرفتاری پہ اتر آئی ہے جسکے نتائج بلوچستان کے عوام کے لئے نہایت ہی سنگین ہوسکتے ہیں۔
مرکزی وائس چئیرپرسن نے اپنے بیان میں مذید کہا کہ گذشتہ تین چار روز سے ضلع مکران کے مختلف علاقوں بلیدہ، پنجگور، کیل کور اور کولواہ میں فوجی آپریشن زور و شور سے جاری ہے جس میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد ماورائے عدالت گرفتار کئے جاچکے ہیں۔سکیورٹی فورسز نے آواران کے علاقے تیرتیج میں فوجی آپریشن کرتے ہوئے جعفر ولد معیار،نور بخش ولد احمد،مراد بخش عزیز،عباس عزیز،اشرف مراد بخش،چار شمبے مراد بخش اور پلین کو ماورائے عدالت گرفتار کرکے نامعلوم مقام پہ منتقل کردیا۔
آواران کے علاقے مالار سے جان محمد پنڈوک ،مقصود، خداداد، اور میاں سنجر کو اٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے۔اسی طرح کولواہ کے علاقے بدرنگ میں فوجی آپریشن کرتے ہوئے رضائی کے گھر پہ چھاپہ مار کہ خواتین اور کمسن بچوں سمیت رضائی ولد پیر بخش کو اپنے ساتھ لے گئے۔مروارد بلوچ نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ جب اس وبائی امراض سے بچنے کے لئے پوری دنیا احتیاطی تدابیر اپنائے ہوئی ہیں لیکن اس مشکل اور کھٹن وقت میں بھی بلوچستان کے عوام فوجی آپریشنز اور ماورائے عدالت گرفتاری کا شکار ہے اور اس پہ حکومت بلوچستان اور سیاسی سوداگروں کے منہ پہ قفل لگ گئے ہیں جو نہایت ہی تشویشناک ہے۔اقوام عالم اور عالمی ادارہ صحت بلوچستان کے عوام کی حالت زار کو دیکھ کر ریاست پاکستان کو بلوچستان میں فوجی آپریشن بند کرنے اور صحت عامہ کے متعلق اقدامات اٹھانے پر دباؤ ڈالیں۔