پشتونوں سے جینے کا حق چھینا گیا، چمن جلسہ عام سے منظور پشتین کاخطاب

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے افغانستان سے منسلک سرحدی علاقے چمن میں گذشتہ روزپشتون تحفظ موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے چمن سرحد پر پشتون شہریوں کو تنگ کرنے، پشتون علاقوں میں فورسز کی جانب سے گرفتاریاں و قتل عام کے خلاف جلسہ منعقد کیا گیا۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے منظور پشتین کا کہنا تھا اس ملک میں پشتونوں سے جینے کا حق چھینا گیا افغان شہریوں کو انکے اپنے اجداد کے زمین پر بے عزت کیا جاتا ہے، ان سے کاروبار کا حق بھی چھینا گیا ہے۔

انھوں نے کہاکہ پاکستان بھارت کو اپنا سب سے بڑا دشمن مانتا ہے، لیکن وہاں کبھی پنجاب میں سرحد بند نہیں ہوئے، لیکن پاکستان اور افغانستان میں رہنے والے پشتون کے بیچ ہمیشہ دیواریں کھڑی کی گئی۔

منظور پشتین کا کہنا تھا پشتون تحفظ موومنٹ اپنے لوگوں کی حقوق کی جہدو جہد جاری رکھے گی۔

انھوں نے کہاکہ پشتون سرزمین قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، لیکن یہاں کے باسی بھوک سے نڈھال ہیں سرحد کے دونوں طرف پشتون آباد ہے پابندی لگانا ہمارے حقوق سلب کرنا ہے۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے دیگر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پشتون قوم پرست پارٹیاں جب پشتون حقوق کی بات کرتے ہیں، تو اپنے جلسوں میں دوسرے پشتون رہنماؤں پر الزام تراشی کا کوئی فائدہ نہیں جب ہمارا مسئلہ ایک ہے، تو ہم سب مل کر ان مسائل کے حل کے لئے کوشش کریں۔

انھوں نے کہاکہ گورنر شپ پشتون بیلٹ کے لئے فائدہ مند ہے اسے قبول کرنا دانش مندی ہوگی۔

مقررین نے کہا کہ پاکستان میں جب چاہے پشتونوں کو محبت وطن قرار دیکر انکا استعمال کیا گیا پھر ضرورت کے مطابق پشتونوں کو دہشت قرار دیگر انکا قتل عام کیا گیا۔

انھوں نے کہاکہ پشتون شعور یافتہ ہیں اپنے اچھے اور برے کی تمیز رکھتے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment