بلوچستان کے ضلع کیچ اور کوئٹہ سے ضعیف العمر شخص سمیت دو افراد کو پاکستان فورسز نے حراست میں لے کر جبراً لاپتہ کردیا ہے جبکہ خاران میں ایک گھر پر دستہ بم سے حملہ کیا گیا ہے۔
لاپتہ ہونے والے افراد کو کیچ کے علاقے مند گوبرد اور کوئٹہ کے علاقے عیسیٰ نگری سے لاپتہ کیاگیا ہے۔
لاپتہ ہونے والوں کی شناخت نور خان سکنہ ہوشاپ اور شکاری پیر محمد کے ناموں سے ہوئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق لاپتہ ہونے والوں میں نور خان کمپیوٹر سائنس کا طالب ہے اور اس وقت کوئٹہ میں اپنے پڑھائی کے غرض سے وہاں مقیم تھے جنہیں فورسز نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے۔
دریں اثنا خاران شہرمیں زاہد نوشیروانی عرف کاہو نامی شخص کے گھر پر نامعلوم افراد کی جانب سے دستی بم پھینکا گیا۔
ذرائع کے مطابق خاران شہر سول ہسپتال کے قریب خاران کے رہائشی میر زاہد نوشیروانی نامی شخص کے گھر میں رات گئے نامعلوم افراد کی جانب سے دستی بم پھنک دیا گیا جو پھٹ نہ سکا۔
پولیس ذرائع کے مطابق زاہد نوشیروانی کے گھر ایک دستی بم پھینکنے کی اطلاع ملی جو گھر کی چاردیواری میں گرا تھا اور پھٹ نہیں سکا، جس کو ناکارہ بنانے کیلئے خضدار سے بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کیا گیا۔