حق تحریک بلوچستان گوادر کے زیراہتمام اپنے مطالبات کے حق میں وائے چوک پر احتجاجی دھرنا 12ویں روز میں داخل ہوگیا۔
گزشتہ روز دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے مولاناھدایت الرحٰمن بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے تحریک کے سینئر بزرگ رہنماحسین واڈیلہ کو حق دو تحریک بلوچستان کا سربراہ مقررکرنے کا اعلان کرتے کہاکہ آج کے بعد اس عوامی تحریک کی قیادت حسین واڈیلہ کریں گے۔
انہوں نے کہاکہ اس دھرنا کے تمام مطالبات حق،جائز اورقانونی ہیں،کوئی سیاسی جماعت،صوبائی حکومت،سمیت تمام ادارے اس بات سے انکاری نہیں کہ ہمارے مطالبات ناجائز ہیں۔ہمارا دعویٰ ہے کہ سمندر ٹرالرز مافیا کے نرغے میں ہے،ہمارا دعویٰ ہی کہ ہمارے بچے لاپتہ ہیں،نشہ سرعام ہے،بارڈر پر آزادانہ تجارت نہیں،ضلع گوادر کو تین دفعہ آفت زدہ قراردیاگیاہے،لیکن آفت زدگی عوام کیلئے نہیں بلکہ صوبائی کابینہ سمیت تمام بیوروکریٹس خود آفت زدہ ہیں۔
انہوں نے کہا اگر اس آفت زدگی میں صرف بجلی کے بل معاف کئیے جائیں تو تین لاکھ لوگوں کو فائدہ مل سکتا،صرف وزیراعلی ہاؤس کے ایک مہینے کا خرچہ کروڑوں روپے ہے،انہوں نے کہاکہ سیاستدانوں کیدو ارب روپے کے لون معاف کئیے جاسکتے ہیں لیکن اگر غلطی سے کوئی عام شہری،ماہیگیر زرعی بنک یا کسی مالیاتی ادارے سے لون حاصل کرے تو ان پر نیب قوانین سے لیکر انکی زندگی اجیرن کردی جاتی ہے،جہانگیر ترین تین ارب روپے کا مقروض ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔اگر کوئی غریب 10ہزار کا مقروض ہو تو انکی زندگی اجیرن۔
انہوں نے کہا کہ تمام قوانین بڑے بڑے مگرمچھوں کیلئے ہیں۔74 سال گزر گئے ہیں لیکن آج بھی پانی،بجلی،کیلئے ترس رہے ہیں۔370 سے زائد قومی اسمبلی کے ممبرز،110 ممبرز سینیٹ،اور 65 صوبائی اسمبلی کے ممبرز ہیں ان کیلئے صحت،تعلیم سفری سہولیات مفت ہیں،پہلے سائیکل پر آتے تھے لیکن اب دس دس کروڑ کی گاڑیوں میں نظر آتے ہیں۔
انہوں نے کہا تحریک اور دھرنا مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔