بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے سانحہ نشتر ہسپتال ملتان اور سی ٹی ڈی کے ہاتھوں مسلسل بلوچ نوجوانوں کی جعلی مقابلوں میں مارنے کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
جس میں خواتین و بچوں سمیت کثیر تعداد میں عوام نے شرکت کی اور سی ٹی ڈی کے ہاتھوں بلوچ نسل کشی اور سانحہ نشتر ہسپتال میں لاشوں کی بے ہرمتی اور انہیں بنا کسی شناخت کے مسئلے کو منظر عام سے غائب کرنے کی سازشوں پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔ اور ان دونوں واقعات میں ملوث تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
احتجاج عطا شاد ڈگری کالج سے شروع ہوکر مظاہرے کی شکل میں شہید فدا احمد چوک تک پہنچی جہاں مظاہرین نے بیٹھ کر ان واقعات پر شدید احتجاج ریکارڈ کیا اور اسپیکرز نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ایک جانب بلوچستان میں نام نہاد امن و امان کی پرچار کی جاتی ہے دوسری جانب وفاق میں ایک نام نہاد جمہوری حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس میں بلوچستان کے قوم پرست بھی شامل ہیں جبکہ پاکستان میں مقتدرہ حلقے سیاست میں نیوٹرل ہونے کی بات کر رہے ہیں پاکستان میں ہر چیز بدل رہی ہے لیکن بلوچستان میں جاری نسل کشی میں کوئی تبدیلی دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے اور سی ٹی ڈی کے بننے کے بعد سے بلوچستان میں ‘مارو اور پھینکو ‘ کی پالیسی کو باقاعدہ مین اسٹریم کر دیا گیا ہے اور اس کو قانونی طوریقے سے انجام دیا جا رہا ہے جو اس بات کی ثبوت ہے کہ بلوچستان میں جاری نسل کشی کا تعلق کسی ایک ادارے یا فوج کی پالیسی نہیں بلکہ پاکستان کے تمام ادارے بطور ریاست اس میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، سب کو اس بات کا علم ہے کہ سی ٹی ڈی جعلی مقابلوں میں لاپتہ افراد کو قتل کر رہی ہے لیکن عدلیہ سے لیکر صحافی حضرات تک سب کے لبوں پر مہر لگی ہوئی ہے اور کوئی بھی ان جرائم پر بات کرنے کو تیار نہیں جبکہ صوبائی و نام نہاد وفاقی حکومت ان قتل و غارت کوبلوچستان کے حالات سے جوڑ کر انکھیں بند کیے ہوئے ہیں جو کسی المیے سے کم نہیں ہے۔
آج بلوچستان میں جو نسل کشی ہو رہی ہے وہ باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت جاری ہے اور اس کو گزرتے وقت کے ساتھ وسعت دیا جا رہا ہے، زیارت میں 9 لاپتہ افراد کا قتل ہو یا 50 دنوں کے احتجاج اور وفاقی وزیر دارخلہ کی یقین دہانی کے باوجود مہینے کے اندر ہی مزید لاپتہ افراد کا جعلی مقابلوں میں قتل ہو یہ سب ثابت کر رہے ہیں کہ بلوچستان کو ایک سازش کے تحت مزید قتل و غارت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
مقررین نے سانحہ نشتر پر بھی تحفظات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں ریاست کی زمہ داری ہر ایک شہری کی حفاظت اور اس کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے وہی 500 لاشوں پر اتنی خاموشی، میڈیا کا اس کو نظرانداز کرنا، سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی خاموشی نے کئی خدشات جنم دیے ہیں، پنجاب میں جب کوئی کتا مرتا ہے تو اس پر بھی کئی دنوں تک واویلا کیا جاتا ہے لیکن 500 لاشوں پر مکمل خاموشی ہے جو ہمارے تحفظات کو مزید تقویت دے رہی ہے کہ یہ لاپتہ افراد کی ہو سکتی ہیں اس لیے ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے۔
آخر میں مقررین نے ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان گزشتہ دو دہائیوں سے آگ و خون کی چکی میں پس رہی ہے اب مزید اس قتل و غارت کو بند ہونا چاہیے تاکہ بلوچستان کے عوام سکھ کا سانس لے سکیں اس طرح کی جعلی مقابلوں اور بلوچوں کی نسل کشی سے بلوچ قوم کو ختم نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس سے نفرت میں مزید اضافہ ہوتا جائے گا اور حالات مزید ابتری کی جانب جائیں گے۔