سیلاب متاثرین کوامدادپہنچانے کیلئے بی وائی سی کے رضاکاربولان میں پھنس گئے

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے سیلاب متاثرین کوامدادپہنچانے کیلئے بی وائی سی کے رضاکار نانی پل ٹوٹنے کے باعث بولان میں پھنس گئے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی (کراچی) کے والنٹیئرز 7 دن سبی میں راشن کی تقسیم کرنے کے بعد جب کوئٹہ کے لئے روانہ ہوئے تو بولان کا راستہ صاف تھا۔ پوری معلومات لینے کی بعد ہمارے نوجوان کوئٹہ کے لئے نکل گئے لیکن رستے میں بارش سے جب تک وہ سبّی سے بولان تک پہنچے تو نانی پل ٹوٹ چکا تھا اور بولان بہہ چکا تھا۔

جیسے کے ڈاڈر سے آگے ویسے بھی نیٹورک کا گمان نہیں ہے اور اب تو بارش بہانہ ہے اس لئے رابطہ کاری میں بہت مسئلہ درپیش ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اس بات کو تین دن ہوگئے ہیں۔ مطلب نانی پل تین دن سے ٹوٹا ہے اور جناب انتظامیہ منظر سے غائب ہے۔

انتظامیہ، ویسے تو ہمارا اے سی اور ڈی سی سبی سے رابطہ ہے اور دونوں اپنی بے بسی اور کام کرنے کی باتیں بھی کررہے ہیں، حقیقت میں کیا کررہے ہیں خدا جانے لیکن نانی پل نہیں بنا رہے یہ بات پکی ہے۔

جناب اعلی، ہمارے نوجوانوں سمیت ہزاروں گاڑیاں تین دن سے روڈ پر کھڑی ہوئی ہیں۔ ان کے لئے راستہ بنائیں تاکہ وہ اپنے گھر پہنچ سکیں۔ یہ کہنا آسان ہے کہ آپ کے لوگوں نے کس کو کہا تھا کہ اس راستے سے جائیں، لیکن اب کیا؟

حکومت بلوچستان سیلاب کو زرا سا سنجیدہ لے۔ ان کے اعمال سے ہمیں ایسی کوئی صورت نظر نہیں آرہی کہ حکومت سنجیدہ ہے۔ اور ہم جیسے لوگوں کے لئے جو عوامی خدمت میں دن رات ایک کر رہے ہیں، ان کے لئے راستہ آسان بنائیں نہ کہ مشکل۔

ہمارے نوجوانوں کی فیملیز سمیت بی وائی سی (کراچی) ٹیم بہت پریشان ہے۔ جلد ہی بلوچستان حکومت راستہ بنا کر مسئلے کا حل نکالیں۔

Share This Article
Leave a Comment