سی ٹی ڈی کے جرائم میں ہر گزرتے دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے، بی وائی سی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے سانحہ مستونگ کو سفاکیت کی انتہا قرار دیتے ہوئے کہا کہ سی ٹی ڈی کے جرائم میں دن بدن اضافہ ہو جا رہا ہے اور یہ سی ٹی ڈی بلوچ قوم کی قتل عام میں شدت لانے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔ گزشتہ رات مستونگ کے علاقے کلی شادی خان میں ڈگری کالج مستونگ کے سابق پرنسپل کے گھر پر سی ٹی ڈی نے درنددگی کی انتہا کردی، گھر کی چادروچار دیواری کی پامالی کے ساتھ گھر میں اندھا دھند فائرنگ کی گئی جس سے سلمان اور صلاح الدین جاں بحق جبکہ پروفیسر صالح شاد، بزرگ گل محمد زخمی ہوئے جنہیں ایڈوکیٹ عطاء اللہ سمیت گھر کے چھ افراد کے ہمراہ زخمی حالات میں لاپتہ کیا گیا۔ جبکہ آج انہیں زخمی حالات میں ہتھکڑیاں ڈال کر سول اسپتال کوئٹہ میں لایا گیا۔ یہ کسی بھی طرح کوئی قانونی کارروائی نہیں بلکہ غیرقانونی اور درندگی کی اعلیٰ مثال ہے۔

ترجمان نے کہا کہ جس دن سے سی ٹی ڈی کی تشکیل عمل میں لائی گئی اسی دن سے بلوچستان میں ماوارئے عدالت قتل عام میں اضافہ ہوا ہے اور اس میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سی ٹی ڈی کے ہاتھوں اب تک درجنوں افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے جس میں پہلے سے ریاستی طویل میں زیرحراست افراد بھی شامل ہیں۔ اگر سی ٹی ڈی کے جرائم کو روکا نہیں کیا گیا بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی اور ریاستی قتل عام میں مزید اضافہ ہوگا جس سے بلوچستان کے حالات مزید ابتر ہونگے۔ مستونگ کا واقعہ سی ٹی ڈی کے جرائم کی ایک اور واضح مثال ہے۔ دو دن پہلے ایسے ہی ایک واقعے میں عنایت اللہ غبزئی کی لاش سول اسپتال پہنچائی گئی، کچھ دن قبل ایسے ہی ایک چھاپے کے دوران خاران میں دو بھائیوں کو قتل کیا گیا اور آج مستونگ میں اس واقعے سے سی ٹی ڈی نے قتل عام کا اعلان کر دیا ہے۔

ترجمان نے عدلیہ، سیاسی پارٹیوں اور دیگر حکومتی اداروں کو زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کے جرائم کو روکنے کی کوشش نہیں کی گئی تو بلوچستان میں ہر طرح کے حالات کے زمہ داری انہی اداروں پر عائد ہوگی۔ بلوچ قوم اپنے لوگوں کے قتل عام پر خاموش نہیں رہے گی۔ جبکہ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ سیکورٹی فورسز کے جرائم کے خلاف سیاسی مزاحمت کا راستہ اختیار کریں ورنہ آج پروفیسر صالح ہے کل آپ کا گھر بھی اس مظالم کا نشانہ بن سکتا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment