شہید رضا جہانگیر اور امداد بجیر کو ان کے عظیم قربانیوں پر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں،بی ایس او آزاد

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے شہید رضا جہانگیر کی نویں برسی پر اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ریاستی جبر اور کریک ڈاؤن عروج پر تھا تو شہید رضا جہانگیر ایک ایسیرہنما کے طور پر ابھرے کہ جنھوں نے سیاسی بصیرت کے بدولت تنظیم کو مزید منظم اور فعال کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ تنظیم اُن کی لازوال جدوجہد اور قربانی پر انھیں خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اکیسویں صدی کے آغاز میں جب بلوچ قومی تحریک ایک واضح سمت لیتے ہوئے آزادی کیڈگر پر چل پڑی تو بی ایس او آزاد بلوچ نوجوانوں کی ایک مضبوط سیاسی طاقت کے طور پر ابھری اور ہزاروں کی تعداد میں نوجوان تنظیم کا حصہ بن کر قومی تحریک کے متحرک اساس بنے۔بی ایس او آزاد نے بلوچ نوجوانوں کی سیاسی و فکری تربیت کرنے کے ساتھ بلوچ سماج میں نئی اور ترقی پسندانہ سوچ کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بلوچ قومی تحریک کے ایک متحرک اساس ہونے کے بدولت قابض ریاست نے روز اول سیتنظیم کے خلاف جابرانہ پالیسی اختیار کیا اور اسی پالیسی کے تحت تنظیمی عہدیداران کو جبری طور گمشدگی کا شکاربنایا گیا جبکہ درجنوں کارکنان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی گئیں۔ ریاستی جبر و ستم کے باوجود تنظیم اپنے موقف پرڈٹ رہی اور آزادی کے شمع کو بلوچستان بھر میں روشن کیے رکھا۔

انھوں نے کہا کہ تنظیم کی جہد مسلسل سے خوف زدہ ریاست نے جہاں تشدد اور طاقت کا استعمال کیا تو دوسری جانب بلوچ نوجوان آہنی دیوار بن کر تمام تر کریک ڈاؤن کے خلاف ڈٹے رہے۔ بی ایس او آزاد کے کارکنانکی شعوری و فکری پختگی اور بلوچ تحریک میں کلیدی کردار کو پرکھتے ہوئے ریاست نے بالآخر تنظیم کو کالعدم قراردیتے ہوئے تنظیم پر پابندی عائد کی۔ شہید رضا جہانگیر نے انھی ادوار میں تنظیم کی باگ ڈور سنبھالی جب ریاست کی جانب سے تنظیمی پروگرام میں رکاوٹیں حائل کرنے کیلیے مارو او پھینکو پالیسی کے تحت معمول کی بنیادوں پرقتل عام جاری تھا۔ بلوچ نوجوانوں میں خوف و ہراس پھیلانے کیلیے ریاست مختلف ہتھکنڈے تسلسل کیساتھ استعمال کر رہی تھی۔

انھوں نے کہا کہ پابندیوں کے باوجود جب تنظیمی قیادت نے معروضی ضروریات کے تحت تنظیم کو مزیدمضبوط،فعال اور منظم کرنے کی کوشش کی تو بالآخر ریاست نے تنظیمی قیادت پر کریک ڈاؤن کا آغاز کیا۔ اسی پالیسی کے تحت نو سال قبل 14 اگست 2013 کو جب شہید رضا جہانگیر تنظیمی دورے پر تربت میں موجود تھے توان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر بی ایس او آزاد کے سیکرٹری جنرل رضا جہانگیر اور بی این ایم کے رہنما امداد بجیرکو شہید کیا گیا۔

اپنے بیان کے آخر میں انھوں نے کہا کہ شہید کے فلسفہ جدوجہد کو جاری رکھتے ہوئے تنظیم کو مزید مضبوط اورفعال کرنے کی جدوجہد جاری ہے۔ بی ایس او شہید رضا جہانگیر جیسے عظیم کرداروں کی جدوجہد کے بدولت آجبھی قومی تحریک کے کلیدی اساس کے طور پر جانا جاتا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment