حکومت جبری لاپتہ افراد کا دھرنا حوالے غیر ذمہ داری کامظاہرہ کر رہی ہے،بلوچ یکجہتی کمیٹی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کوئٹہ میں جاری دھرنے اور حکومت کی مسلسل غفلت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب لا پتہ افراد کے غمزدہ لواحقین ہیں جو گزشتہ 21 دنوں سے گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا دیے ہوئے ہیں اور دوسری جانب صوبائی حکومت ہے جو ٹس سے مس نہیں ہو رہی ہے جبکہ نام نہاد کمیشن کو اب دو ہفتوں سے زیادہ ہو چکا ہے مگر زیارت واقعے پر اب تک کچھ پیشرفت نظر نہیں آ رہا ہے، حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لاپتہ افراد کے لواحقین کے جائز مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں حل کرنے کی کوشش کر میں اگر حکومت کے پاس اپنے ہی اختیارات نہیں ہیں تو انہیں بھی دھرنے میں شریک ہوکر لواحقین کے ساتھ ریاست سے انصاف مانگنا چاہیے۔

ترجمان نے کہا کہ پہلے سے لاپتہ افرادکو رہا کرنے کے بجائے کیچ گوادر اور کراچی سے مزید نو جوانوں کو لاپتہ کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ شہریوں کو انصاف فراہم کر ناریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے بلوچستان میں شہریوں کے انسانی حقوق کو سلب کر ناریاست نے اپنی ذمہ داری سمجھ لیا ہے اس لیے آئے دن کسی نہ کسی کے آئینی وانسانی حقوق سلب کیے جاتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ لواحقین کی مسلسل کوششوں اور جدوجہد کو نظر انداز کرتے ہوئے مزید لوگوں کو لاپتہ کرنا اور دھرنے پر بیٹھے افراد کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنے سے انکار کر نا صوبائی حکومت وریاستی اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اگر لواحقین کے جائز مطالبات کو تسلیم نہیں کیا گیا تو آنے والے دنوں میں جد و جہد کا دائرہ کار کوئٹہ سے نکل کر پورے بلوچستان میں پھیل جائے گا۔ حکومت اور ریاستی ادارے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لواحقین کے جائز مطالبات کو تسلیم کر یں۔

Share This Article
Leave a Comment